تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 365

مدنظر رکھ کر ہے اسی کے مطابق قرآن کریم میں سورتیں رکھی گئی ہیں اور اسی کے لحاظ سے بعض بعد میںنازل ہونے والی سورتیں پہلے آگئی ہیں اور پہلے نازل ہونے والی بعد میں آگئی ہیں۔اب میں قرآنی آیات کی تشریح کرتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو پیغام ملا وہ اپنے اندر کس قدر علوم رکھتا تھا اور کتنے عظیم الشان معارف تھے جو اس میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں ) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں) اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَۚ۰۰۲ اپنے رب کا نام لے کر پڑھ جس نے (سب اشیاء کو) پید اکیا۔تفسیر۔اِقْرَاْ کے معنے اِقْرَاْ وہ پہلا لفظ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور جس میں اسلام کے ظہور کے ساتھ ہی بعض عظیم الشان پیشگوئیوں کا اعلان کردیا گیا۔اِقْرَاْ کے اصل معنے گو کسی لکھی ہوئی چیز کے پڑھنے کے ہیں مگر اس کے ایک معنی اعلان کرنے کے بھی ہیں اور یہ دونوں معنے ایسے ہیں جو اس مقام پر نہایت عمدگی کے ساتھ چسپاں ہوتے ہیں۔اگر اِقْرَاْ کے معنے اعلان کرنے کے لئے جائیں تو اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ کے یہ معنے ہوں گے کہ تو اس کتاب کا اعلان اپنے اس رب کے نام کے ساتھ کر جس نے تجھے پیدا کیا۔اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کریم وہ کتا ب ہے جس میں پہلے دن ہی یہ خبر دے دی گئی ہے کہ یہ کلام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے لئے نہیں بلکہ دنیا کی ساری قوموں اور قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کے لئے ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پہلا الہام دیکھو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر پہلے دن جو الہام ہوا وہ صرف اس قدر تھا کہ ’’میں تجھے فرعون کے پاس بھیجتا ہوں میرے لوگوں کو جو بنی اسرائیل ہیں مصر سے نکال۔‘‘ (خروج باب ۳ آیت ۱۰) حالانکہ انبیاء کا اصل کام یہ ہوتا ہے کہ قلوب کی صفائی کریں شیطان کی غلامی سے لوگوں کو چھڑائیں اور تقویٰ