تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 364
جاسکتی ہے مگر مذہبی اور روحانی نقطۂ نگاہ سے اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو دنیا کے لئے جدید پیغام ہو یا اس پر کوئی نئی حقیقت روشن کرنے والا ہو۔بہرحال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سابق انبیاء کی بد ء وحی کے واقعات کا جب آپس میں مقابلہ کیا جائے تو اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی باقی تمام انبیاء کی وحیوں میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس قسم کی محبت اور پیار کا سلوک آپ سے کیا ہے اس قسم کی محبت اور پیار کا سلوک اس نے اور کسی نبی سے نہیں کیا۔ترتیب: سورۃ علق کا پہلی سورتوں سے تعلق یہ سورۃ بھی پہلی سورۃ کے مضمون کے مطابق ہے۔یعنی وَ التِّيْنِ وَ الزَّيْتُوْنِ میں جو مضمون تھا اسی کو ایک نئے پیرایہ میں اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے۔وَ التِّيْنِ وَ الزَّيْتُوْنِ میں اللہ تعالیٰ نے وحی کا ایک تسلسل بیان کیا تھا اور بتایا تھا کہ یہ تسلسل ابتدائے عالم سے جاری ہے۔پہلے آدمؑ کے ذریعہ اس کا ظہور ہوا، پھر نوحؑ کے ذریعہ اس کا ظہور ہوا، پھر موسٰی کے ذریعہ اس کا ظہور ہوا۔اب قرآن کریم کے ذریعہ اس کا ظہورہورہا ہے۔یہی مضمون اس جگہ بیان کیا گیا ہے کہ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۔خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ یعنی انسانی پیدائش کو تم دیکھ لو جس طرح ایک فرد علقہ سے مضغہ بنتا ہے اور مضغہ کے بعد درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے آخر جاندار بن کر رحم مادر سے باہر آتا ہے۔اسی طرح جماعتی طور پر انسان کی ترقی ہوئی ہے۔پہلے روحانی لحاظ سے انسان علقہ کی طرح تھا پھر ترقی کرکے مضغہ بنا پھر اس نے اور ترقی کی، پھر اور ترقی کی یہاں تک کہ وہ انسانِ کامل کے مقام تک آپہنچا اور یہ پیدائش محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں ہوئی ہے۔پس خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ہے جو وَ التِّيْنِ وَ الزَّيْتُوْنِ میں بیان کیا گیاتھا اور بتایا گیا ہے کہ ابتدائے عالم سے ایک سکیم ہمارے مدنظر تھی اور ہم چاہتے تھے کہ روحانی لحاظ سے انسان کو درجہ بدرجہ ترقی دیتے دیتے آخر دنیا میں ایک انسان کامل پیدا کریں۔جب یہ سکیم ابتدائے عالم سے ہمارے مدنظر تھی تو ضروری تھا کہ انسان کو اس کا مقصود حاصل ہوتا۔ورنہ خلق انسانی عبث ٹھہرتی ہے اور اللہ تعالیٰ زیر الزام آتا ہے کہ جس سکیم کے ماتحت بنی نوع انسان کی پیدائش کی گئی تھی وہ نعوذ باللہ کامیاب نہ ہوئی۔پس یہ سورۃ گزشتہ سورۃ کے مضمون کے تسلسل میں ہے اور اسی مضمون کو ایک نئے انداز میں اس جگہ بیان کیاگیا ہے۔اس جگہ شاید کسی کے دل میں یہ شبہ پیدا ہو کہ جب سورۂ علق ابتدائی سورۃ ہے تو سورۂ تین سے اس کا تعلق ثابت کرنا کیا معنے؟ تین بعد میں نازل ہوئی اور علق پہلے۔سو اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کی دو ترتیبیں ہیں۔ایک نزول کے لحاظ سے۔سو اس لحاظ سے تین بعد میں ہے اور علق پہلے۔لیکن اس کی جو ترتیب تمام زمانوں کو