تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 355

یہ ثابت نہیں کرسکتے تو تمہیں غور کرنا چاہیے کہ اگر ایک شخص جو اپنے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام کہتا ہے اللہ تعالیٰ سے الہام پاکر قبل از وقت غیب کی خبروں سے دنیا کو اطلاع دے سکتا ہے تو اس کا آقا کیوں ایسی خبریں نہیں دے سکتا تھا؟ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں دنیا کی تمام مخالفتوں، منصوبوں اور شرارتوں کا ایسی حالت میں ذکر کردیا گیا ہے جب سب دنیا آپ کی تائیدمیں تھی تو قرآن کریم میں کیوں ایسے مضامین قبل از وقت نہیں آسکتے تھے؟ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے وجود سے ان تمام حملوں کا ایسا جواب دے دیا ہے کہ اب دشمن کو منہ کھولنے کی جرأت ہی نہیں ہوسکتی۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بدء وحی اور پہلے انبیاء کی بدء وحی میں کیا فرق ہے۔مستشرقین یورپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ابتدائی وحی پر تو اعتراض کردیا مگر انہوں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ جن انبیاء کو وہ خود تسلیم کرتے ہیں ان کی کیفیت وحی الٰہی کے نزول کے وقت کیا ہوئی۔بنی اسرائیل میں سب سے بڑے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوئے ہیں ان کے متعلق بائبل میں لکھا ہے کہ وہ اپنے خسر یترو کے گلہ کی نگہبانی کررہے تھے کہ انہوں نے حورب پہاڑ پر ایک درخت آگ میں روشن دیکھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام حیران ہوئے کہ یہ عجیب بات ہے کہ درخت کے اردگرد آگ بھی ہے اور وہ جلتا بھی نہیں۔چنانچہ وہ اس نظارہ کو دیکھنے کے لئے آگے بڑھے تب ’’خدا نے اسی بوٹے کے اندر سے پکارا اور کہا کہ اے موسیٰ اے موسیٰ! وہ بولا میں یہاں ہوں۔تب اس نے کہا یہاں نزدیک مت آ اپنے پائوں سے جوتا اتار کیونکہ یہ جگہ جہاں تو کھڑا ہے مقدس زمین ہے۔پھر اس نے کہا میں تیرے باپ کا خدا اور ابراہام کا خدا اور اضحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔موسیٰ نے اپنا منہ چھپایا کیونکہ وہ خدا پر نظر ڈالنے سے ڈرتا تھا‘‘ (خروج باب۳ آیت ۴ تا ۷) اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بدء وحی میں کتنا بڑا فرق ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جب انہوں نے خدا تعالیٰ کو دیکھا تو دَنَا فَتَدَلّٰى (النّجم:۹)۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف دوڑے اور خدا تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑا اور یہی عشق کامل کی علامت ہوتی ہے۔ایک شاعر کہتا ہے ؎ بعد مدت کے گلے ملتے ہوئے آتی ہے شرم اب مناسب ہے یہی کچھ میں بڑھوں کچھ تو بڑھے