تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 354
موسٰی کے ساتھ پیش آئے تھے وہی تیرے ساتھ پیش آنے والے ہیں۔تیری مخالفت میں بھی لوگوں کی طرف سے بہت کچھ کہا جائے گا تیرا فرض ہے کہ تو صبر سے کام لے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر الہامات واقعہ کے بعد بنالئے جاتے ہیں تو براہین احمدیہ میں یہ بات کس طرح چھپ گئی۔پھر الہام ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ ۶۰۷) کیا تیرے ماننے والے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ محض اتنی بات پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور وہ آزمائش میں نہیں ڈالے جائیں گے اگر وہ ایسا خیال کرتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہے۔ان پر بڑے بڑے مظالم کئے جائیں گے، بڑے بڑے مصائب ان کو برداشت کرنے پڑیں گے اور جب وہ ان امتحانات میں پورے اتریں گے تب انہیں خدا تعالیٰ کے حضور مومن سمجھاجائے گا۔یہ تمام الہامات جن کو اوپر پیش کیا گیا ہے ان میں سے کوئی ایک الہام بھی ایسا نہیں جو ۱۸۸۴ء کے واقعات پر چسپاں ہوسکتا ہو بلکہ یہ تمام الہامات وہ ہیں جن میں آئندہ رونما ہونے والے واقعات کی خبر دی گئی ہے۔اسی طرح اور بھی کئی الہامات ہیں جو آئندہ واقعات پر مشتمل ہیں۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ۱۹۰۳ء میں رؤیا میں دیکھا کہ ’’زار روس کا سونٹا میرے ہاتھ میں ہے‘‘ (تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ۳۷۷) اب اگر یوروپین مستشرقین کی یہ بات صحیح ہے کہ الہامات ہمیشہ واقعات کے بعد گھڑلئے جاتے ہیں تو اس الہام کی بناء کن واقعات پر ہے؟ ۱۹۰۳ء میں کون سے ایسے حالات تھے جن کی بناء پریہ کہا جاسکتا تھا کہ روس کی حکومت ہمارے قبضہ میں آجائے گی۔اس وقت تو ظاہری حالات کی بناء پر یہ کہنا بھی مشکل تھا کہ گورداسپور کے ضلع میں ہمیں غلبہ حاصل ہوجائے گا کجا یہ کہ روس کی حکومت ملنے کا دعویٰ کیا جاتا اور یہ وہ پیشگوئی ہے کہ اب تک بھی اس کا خفیف سے خفیف اثر نہیں ظاہر ہوا لیکن جب یہ پوری ہوگی دشمن ہزاروں بہانے یہ ثابت کرنے کے لئے بنائے گا کہ یہ بعد میں بنائی گئی۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتاب براہین احمدیہ ان تمام اعتراضات کا جواب ہے جو مستشرقین یورپ قرآن کریم کے متعلق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ آیات جن میں پیشگوئیوں کا ذکر پایا جاتا ہے اس زمانہ کی ہیں جب وہ واقعات دنیامیں ظاہر ہوچکے تھے۔ہم کہتے ہیں اگر تمہارا یہ دعویٰ صحیح ہے تو تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق ثابت کرو کہ آپ نے جو پیشگوئیاں کی ہیں وہ واقعات کے ظہور کے بعد کی ہیں اور اگر تم