تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 356
محبت صادق میں یہی ہوتا ہےکہ کچھ وہ بڑھتا ہے اور کچھ یہ بڑھتا ہے۔اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی روئیت ہوئی تو آپ اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑے اور اللہ تعالیٰ آپ کی طرف دوڑا۔مگر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیا واقعہ ہوا۔جب انہوںنے اللہ تعالیٰ کو دیکھا تو خدا تعالیٰ نے ان سے کہا ’’یہاں نزدیک مت آ‘‘ یہ الفاظ بتارہے ہیں کہ موسٰی کی تجلی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجلی میں کتنا بڑا فرق تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ وہ میری طرف بڑھے اورمیں ان کی طرف بڑھا تاکہ ہم دونوں آپس میں جلدی مل جائیں مگر موسیٰ علیہ السلام کو کہا گیا ’’یہاں نزدیک مت آ‘‘ اور پھر ساتھ ہی یہ حکم دیا گیا کہ ’’اپنے پائوں سے جوتا اتار کیونکہ یہ جگہ جہاں تو کھڑا ہے مقدس زمین ہے۔‘‘ مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتا اتارنے کا حکم نہیں دیا گیا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے راجائوں سے کوئی بڑا آدمی ملنے کے لئے جاتا ہےتو وہ جوتا پہنے رہتا ہے لیکن اگر کوئی زمیندار ان سے ملنے کے لئے جائے تو اسے دروازہ میں ہی جوتا اتاردینے کا حکم دیا جاتا ہے۔چونکہ موسٰی کا مقام وہ نہیں تھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا تھا اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں کہا گیا کہ تو اپنا جوتا اتار۔مگر موسیٰ علیہ السلام کو جیسے معمولی زمینداروں کو ڈانٹ کر جوتا اتارنے کا حکم دیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا گیا کہ ’’اپنے پائوں سے جوتا اتار کیونکہ یہ جگہ جہاں تو کھڑا ہے مقدس زمین ہے‘‘۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس وقت جو کچھ کہا گیا وہ یہ ہے کہ ’’میں تیرے باپ کا خدا اور ابراہام کا خدا اور اضحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔‘‘ اس میں کون سا معرفت کانکتہ بیان ہے یا کون سا کمال ہے جو اس کلام میں پایا جاتا ہے؟ ایک موٹی بات ہے جو ہرشخص جانتا ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کچھ کہا گیا اس کے متعلق آگے چل کر بتایا جائے گا کہ وہ کلام اپنے اندر کس قدر خوبیاں رکھتا ہے۔بدء وحی کے وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حالت پھر وہیری اور اس کے ساتھی یہ تو اعتراض کرتے ہیں