تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 347

کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ انہیں لوگوں کو پڑھ کر سنادیں۔وہ محادثہ بالنفس والی سورتیں سورۃ الیل اور سورۃ الضحیٰ کو قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ قوم کے حالات پر غور کرتے کرتے جب ان سورتوں میں آپ نے اپنی قوم کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا تو اس کے بعد آپ کو یہ خیال ہوا کہ یہ سورتیں درحقیقت الہامی ہیں اور میرا فرض ہے کہ میں یہ سورتیں لوگوں کو پڑھ کر سنائوں۔میور کے اعتراض کا جواب اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک تاریخی سوال ہے اس کا قیاس سے تعلق نہیں۔تاریخی امور میں ہمیشہ تاریخ کا حوالہ چاہیے نہ کہ قیاس کا۔اگر تاریخ سورۃ الیل اور سورۃ الضحیٰ کو بعد کی نازل شدہ قرار دیتی ہے تو قیاس کا اس میں کیا دخل ہے۔بے شک کچھ لوگ اِقْرَاْ کے بعد سورۂ نٓ وَ الْقَلَمِ پھر مزمل اور پھر مدثر کا نزول بتاتے ہیں اور کچھ لوگ اِقْرَاْ کے بعد سورۂ مدثر کی ابتدائی آیا ت کا نازل ہونا بتاتے ہیں۔مگر وہ سورتیں جن کو سر میور محادثہ بالنفس والی سورتیں قرار دیتے ہیں ان کانزول کسی ایک شخص نے بھی اِقْرَاْ سے پہلے قرار نہیں دیا۔دوسرے خود ان سورتوں میں کوئی ایسی بات نہیں کہ ان کو پہلے کی قرار دیا جائے۔کیا وہ خیالات جو ان سورتوں میں مذکور ہیں بعد میں ظاہر نہیں کئے جاسکتے تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کے خلاف قیاس اسی مقام پر پیش کیا جاسکتا ہے جہاں تاریخی واقعہ ناممکن نظر آئے۔مگر جہاں تاریخی واقعہ چسپاں ہوسکتا ہو وہاں قیاس سے کام لینا محض ایک زبردستی ہے اور اس زبردستی کی علم اجازت نہیں دیتا۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ گو سرمیو ر کہتے ہیں کہ یہ سورۃ بعد کی ہے اور محادثہ بالنفس والی سورتیں پہلے کی ہیںاور بعض نے گو محادثہ بالنفس والی (بقول سرمیور) سورتوں کو مخصوص نہیں کیا صرف اتنا کہا ہے کہ یہ سورۃ بعد کی معلوم ہوتی ہیں کیونکہ ا س میں اِقْرَاْ کہا گیا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بعض سورتیں نازل ہوچکی تھیں۔لیکن نولڈکے وغیرہ نے تسلیم کیا ہے کہ یہ سورۃ سب سے پہلے نازل ہوئی ہے۔وہ کہتے ہیں جب تاریخ سے ثابت ہے کہ سب سے پہلے اس سورۃ کی آیات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھیں تو ہم تاریخ کے مقابلہ میں قیاس سے کس طرح کام لے سکتے ہیں۔(A Comprehensive Commentary on the Quran by Wherry P:260) میں اس موقعہ پر یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ مستشرقین یورپ کو زیادہ تر دھوکا اس بات سے لگا ہے کہ بعض جگہ کفار کی مخالفت کی جو خبریں آجاتی ہیں ان سے وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ الہام واقعہ کے بعد ہونا چاہیے اس لئے جس زمانہ میں مخالفت نہیں تھی اس زمانہ میں کسی سورۃ کے اس حصہ کا نزول تسلیم نہیں کیا جاسکتا جس میں مخالفت کی خبر دی گئی ہو۔گویا ان کے نزدیک جن سورتوں میں مخالفت کا ذکر ہو وہ ہمیشہ مخالفت کے بعد کی ہوتی ہیں۔اس خیال پر بنیاد رکھتے ہوئے