تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 348
وہ بعض دفعہ مکی سورتوں کو مدنی قرار دے دیتے ہیں یا ابتداء میں نازل ہونے والی آیات کو بعد کے زمانہ میں نازل ہونے والی آیات قرا ر دے دیتے ہیں۔جب اسلام اور مسلمانوں کی پُرزور مخالفت شروع ہوگئی تھی مگر اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وجود نے اس خیال کا بطلان خوب اچھی طرح ظاہر کردیا ہے۔جب قرآن کریم نازل ہورہا تھا اس وقت تو نہ صحابہ کے دل میں یہ خیال آسکتا تھا اور نہ کسی اور مسلمان کے دل میں کہ کل دشمن قرآن کریم کے متعلق کیا کیا اعتراض کرے گا۔اکثر اعتراضات موجودہ زمانہ میں ہوئے ہیں جن کے ہم جواب دیتے ہیں۔ان میں سے بعض باتیں ایسی ہیں جو صحابہؓ کے زمانہ میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھیں۔مثلاً سورتوں کے نزول کی ترتیب معلوم کرنے میں اس وقت کوئی دقت پیش نہیں آسکتی تھی۔صحابہؓ زندہ موجود تھے اور اگر کسی کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا تو اسے کہا جاسکتا تھا کہ زید سے پوچھ لو۔بکر سے دریافت کرلو۔عمرو اور خالد سے اپنی تسلی کرالو۔مگر جب جواب دینے والے فوت ہوگئے تو اس وقت قدرتی طور پر بعض لوگوں کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہونا شروع ہوا کہ فلاں سورۃ کب اتری تھی یا فلاں سورۃ کا فلاں حصہ کب نازل ہوا تھا؟ اس وقت دشمن نے اس قسم کے خیالات سے فائدہ اٹھانا شروع کردیا۔کہ جہاں کسی پیشگوئی کا ذکر آتا وہ کہہ دیتا کہ یہ حصہ تو وقوعہ کے بعد کا ہے۔حالانکہ وہ حصہ وقوعہ سے مدتوں پہلے نازل ہوچکا تھا۔اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور پیشگوئی ان میں یہ خبریں موجود ہوتی تھیں کہ کفار مکہ میں سے کوئی فرعون کا مثیل ہوگا۔کوئی ہامان کا قائم مقام ہوگا اورنبی کریم ؐکی مثال یوسفؑ کی سی ہوگی۔جس طرح یوسفؑ کو اس کے اپنے بھائیوں نے نکال دیا تھا اسی طرح آپ کے بھائی آپ کو اپنے شہر میں سے نکال دیں گے۔غرض کئی قسم کی پیشگوئیاں تھیں جو اللہ تعالیٰ کے اس کلام میں موجود تھیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور جو بعد میں حرف بحرف پوری ہوگئیں۔مگر چونکہ صحابہؓ کا زمانہ گزر چکا تھا اور وہ لوگ فوت ہوچکے تھے جن کے سامنے قرآن کریم کا نزول ہوا۔اس لئے دشمن نے اس رنگ میں فائدہ اٹھانا شروع کردیا کہ جہاں کہیں کوئی امر بطور پیشگوئی ملتا وہ جھٹ کہہ دیتا کہ یہ حصہ وقوعہ کے بعد کا ہے۔جب واقعات اس رنگ میں ظاہر ہوچکے تھے۔یہی طریق یوروپین مصنفین نے اختیار کیا ہے۔وہ قرآن کریم کی ہر پیشگوئی کو واقعہ کے بعد نازل شدہ بتاتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ دیکھو لوگ کہتے ہیں یہ آیت مکی ہے حالانکہ اس میں فلاں واقعہ کی خبر ہے جو مدینہ میں ہوا اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ آیت مکی نہیں مدنی ہے۔اس سے ان کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے جو کہا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی پیشگوئیاں کیں اور وہ وقت پر پوری ہوئیں یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔آپ نے کوئی پیشگوئی نہیں کی بلکہ واقعہ کے بعد آپ نے اس رنگ کی آیات ڈھال کر قرآن کریم میں شامل کردی تھیں۔