تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 327

ذکر نہیں آتا لیکن بخاری جلد ۴ باب التعبیر میں جو حدیث آتی ہے اس میں تَصْدُقُ الْـحَدِیْثَ کے بھی الفاظ ہیں۔کَانَ یَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعَرَبِیَّ کے بھی الفاظ ہیں اور اس واقعہ کا بھی ذکرآتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی دفعہ پہاڑ کی چوٹی سے اپنے آپ کو گرانے کا ارادہ کیا۔چوتھے اس حدیث میں یہ ذکر آتا ہے کہ ورقہ بن نوفل نے کہا یہ وہی ناموس ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا۔لیکن بخاری میں یہ ذکر آتا ہے کہ اس نے کہا ھٰذَ النَّامُوْسُ الَّذِیْ اُنْزِلَ عَلٰی مُوْسٰی یہ وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔بہرحال اس معمولی فرق کے باوجود نفسِ مضمون دونوں حدیثوں کا ایک ہی ہے۔چنانچہ اسی حدیث کی بناء پر شراح اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ پہلی وحی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ابن کثیر کہتے ہیں کہ فَاَوَّلُ شَیْءٍ نَزَلَ مِنَ الْقُرْانِ ھٰذِہِ الْاٰیَاتُ الْکَرِیْـمَاتُ الْمُبَارَکَاتُ وَ ھُنَّ اَوَّلُ رَحْـمَۃٍ رَحِـمَ اللہُ بِـھَا الْعِبَادَ وَ اَوَّلُ نِعْمَۃٍ اَنْعَمَ اللہُ بِـھَا عَلَیْـھِمْ (تفسیر ابن کثیر زیر سورۃ العلق)۔یعنی یہ قرآن کریم کی پہلی بزرگ اور مبارک آیات ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں۔یہ پہلی رحمت ہیں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم فرمایا اور پہلی نعمت ہیں جس کے ذریعہ اس نے اپنے فضل سے انہیں سرفراز فرمایا۔اس جگہ ضمنی طور پر میں یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم کی بعض آیات میں بعض انبیاء کی جو خوبیاں بیان کی گئی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے بعض لوگ غلطی سے یہ خیال کرلیتے ہیں کہ وہ خوبیاں ان میں ساری دنیا کے مقابلہ میں ممتاز طور پر پائی جاتی تھیں حالانکہ یہ درست نہیں ہوتا۔زبان کا یہ عام قاعدہ ہے کہ جب کسی کی خاص طور پر کوئی خوبی بیان کی جاتی ہے تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ اسے ساری دنیا کے مقابلہ میں اس خوبی کے لحاظ سے فضیلت حاصل ہے بلکہ مراد محض اس زمانہ یا اس کی قوم یا خاندان کے لوگ ہوتے ہیں۔مثلاً اسی جگہ ابن کثیر یہ نہیں کہتے کہ ھُنَّ اَوَّلُ رَحْـمَۃٍ رَحِـمَ اللہُ بِـھَا عَلٰی اُمَّۃِ الْمُحَمَّدِیَّۃِ یہ وہ پہلی رحمت ہے جو امت محمدیہ پر نازل ہوئی بلکہ کہتے ہیں ھُنَّ اَوَّلُ رَحْـمَۃٍ رَحِـمَ اللہُ بِـھَا الْعِبَادَ۔یہ آیات وہ پہلی رحمت ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم و کرم کی بارش کا آغاز فرمایا۔پھر وہ کہتے ہیں وَ اَوَّلُ نِعْمَۃٍ اَنْعَمَ اللہُ بِـھَا عَلَیْـھِمْ۔یہ پہلی نعمت ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آئی اور جس کے ذریعہ اس نے اپنے بندوں پر بہت بڑا انعام نازل فرمایا۔حالانکہ عیسٰیؑ کا کلام اس سے پہلے آچکا تھا۔موسٰی کی کتاب اس سے پہلے آچکی تھی، ابراہیمؑ کے صحف اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوچکے تھے۔درحقیقت یہ ایک