تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 328
محاورہ ہے جو عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ سننے والا پاگل نہیں۔جب ہم کہیں گے کہ فلاں میں یہ خوبی پائی جاتی ہے تو لازماً وہ اسے ایک زمانہ کے لوگوں تک محدود رکھے گا۔یہ نہیں سمجھے گا کہ شروع سے لے کر قیامت تک کے لوگوں پر اسے فضیلت حاصل ہوگئی ہے۔اسی طرح قرآن کریم میں بعض انبیاء کی جو خوبیاں بیان کی گئی ہیں وہ بھی اسی طرح اپنے اپنے زمانہ کے لحاظ سے ہیں نہ کہ ساری دنیا کے لحاظ سے۔جس طرح اس جگہ ابن کثیر نے قرآن کریم کی ان آیات کو پہلی رحمت اور پہلی نعمت قرار دیا ہے حالانکہ عیسٰیؑ اور موسٰی اور ابراہیمؑ اور نوحؑسب اللہ تعالیٰ کا کلام لاچکے تھے۔بہرحال چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر یہ پہلی رحمت تھی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی اس لئے انہوں نے اپنے زمانہ کے لحاظ سے اسے پہلی رحمت قرار دے دیا۔ابن عباسؓ کہتے ہیں ھِیَ اَوَّلُ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْاٰنِ (فتح البیان زیر سورۃ العلق)۔یہ قرآن میںسے پہلا حصہ ہے جو نازل ہوا۔ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں ھٰذِہٖ اَوَّلُ سُوْرَۃٍ اُنْزِلَتْ عَلٰی مُـحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (فتح البیان زیر سورۃ العلق) یہ پہلی سورۃ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہی روایت ہے۔پھر لکھا ہے وَقَدْ ذَھَبَ الْـجُمْھُوْرُ اِلٰی اَنَّ ھٰذِہ السُّوْرَۃَ اَوَّلُ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْاٰنِ ثُمَّ بَعْدَہٗ نٓ وَالْقَلَمِ ثُمَّ الْمُزَّمِّلُ ثُمَّ الْمُدَّثِّرُ (فتح البیان زیر سورۃ العلق) کہ جمہور کا مذہب یہی ہے کہ یہ پہلی سورۃ ہے جو قرآن کریم میں سے نازل ہوئی۔اس کے بعد نون والقلم نازل ہوئی پھر مزمل نازل ہوئی اور پھر مدثر نازل ہوئی۔اسی سلسلہ میں بخاری میں کَیْفَ کَانَ بَدْءُ الْوَحْیِ کے باب کے ماتحت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایک دفعہ گھر سے باہر جارہا تھا کہ میں نے آسمان پر اسی فرشتہ کو دیکھا جو غارِ حرا میں آیا تھا کہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے۔اس سے میں بہت مرعوب ہوا۔میں گھر آیا اور کہا زَمِّلُوْنِیْ زَمِّلُوْنِیْ۔فَاَنْزَلَ اللہُ تَعَالٰی يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ فَـحَمِیَ الْوَحْیُ وَ تَتَابَعَ (صحیح بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی)یعنی جب میں گھر آیا اور مجھ پر کپڑا اوڑھادیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے سورئہ مدثر کی یہ آیات نازل کیں کہ يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۔اس کے بعد وحی جلد جلد نازل ہونی شروع ہوگئی۔ان دونوں اقوال میں بظاہر کچھ اختلاف نظر آتا ہے یعنی خازن نے دوسری روایت کو نقل کرکے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اِقْرَاْ کے بعد سورئہ نون والقلم نازل ہوئی۔پھر سورئہ مزمل نازل ہوئی اور پھر سورئہ مدثر نازل ہوئی اور بخاری کی روایت سے