تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 326

ہاں تیری قوم تجھے نکال دے گی کیونکہ آج تک کوئی شخص اس تعلیم کو لے کر نہیں آیا جس تعلیم کو تو لے کر کھڑا ہوا ہے۔مگر اس کی قوم نے اس سے ضرور دشمنی کی ہے۔اگر مجھے بھی وہ دن دیکھنا نصیب ہوا جب تو اپنی قوم کے سامنے اس تعلیم کا اعلان کرے گا اور قوم تیری شدید مخالفت کرے گی یہاں تک کہ وہ تجھے اس شہر میں سے نکال دے گی تو میں کمر باندھ کر تیری مدد کروں گا۔مگر اس واقعہ کے تھوڑے دنوں کے بعد ورقہ بن نوفل فوت ہوگئے اور وحی میں وقفہ پڑھ گیا۔ہمیں لوگوں کی طرف سے جو خبریں پہنچیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ فترۃ وحی سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ہی غم ہوا۔کئی دفعہ آپ باہر جاتے اور ارادہ کرتے کہ کسی اونچے پہاڑ کی چوٹی سے اپنے آپ کو نیچے گرا دیں مگر جب کبھی آپ پہاڑ کی کسی چوٹی پر اس ارادہ کے ساتھ جاتے کہ اپنے آپ کو نیچے پھینک دیں تو جبریل آتے اور کہتے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔اس سے آپ کا جوش تھم جاتا، آپ کا نفس ٹھنڈا ہوجاتا اور آپ واپس لوٹ آتے۔مگر جب فترۃ وحی کا زمانہ لمبا ہوگیا تو ایک دفعہ پھر آپ اسی ارادہ سے نکلے اور پہاڑ کی چوٹی پر گئے مگر وہاں آپ کو پھر جبریل نظر آئے اور انہوں نے پھر اسی قسم کی بات کی۔یہ روایت ابتداء وحی کے متعلق مسند احمد بن حنبل میں آتی ہے۔امام بخاری نے بھی اس حدیث کو اپنی کتاب کے ابتدائی باب یعنی بَابُ کَیْفَ کَانَ بَدْءُ الْوَحْیِ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ میں درج کیا ہے۔اسی طرح بخاری جلد ۴ باب علم التعبیر میں بھی یہ حدیث آتی ہے مگر مسند احمد بن حنبل اور بخاری کی اس روایت میں کسی قدر فرق پایا جاتا ہے۔وہ فرق یہ ہے کہ اس حدیث میں آتا ہے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تَصْدُقُ الْـحَدِیْثَ مگر بخاری بَابُ کَیْفَ کَانَ بَدْءُ الْوَحْیِ میں جو حدیث درج ہے اس میں تَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ کے الفاظ آتے ہیں۔یعنی وہ خوبیاں جو دنیا سے معدوم ہوچکی ہیں وہ آپ کمارہے ہیں مطلب یہ کہ وہ اخلاقِ فاضلہ جن پر دنیا عمل نہیں کرتی ان پر آپ کا عمل پایا جاتا ہے۔دوسرے بخاری کی ابتدائی حدیث میں ورقہ بن نوفل کے متعلق یہ ذکر نہیں آتا کہ کَانَ یَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعَرَبِیَّ وہ تورات کو عربی زبان میںلکھوایا کرتے تھے (اصل الفاظ یَکْتُبُ کے ہیںجس کے معنے لکھنے کے ہیں لیکن چونکہ وہ اندھے ہوگئے تھے اس لئے اس کے معنے یہاں لکھوانے کے ہیں۔ان معنوں میں بھی یہ لفظ استعمال ہوجاتا ہے یا پھر اس کے یہ معنے ہیںکہ اندھا ہونے سے پہلے ایسا کیا کرتے تھے)۔تیسرے اس حدیث میں یہ ذکر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی دفعہ پہاڑ سے اپنے آپ کو نیچے گرادینے کا ارادہ کیا لیکن بخاری کی وہ حدیث جو بَابُ کَیْفَ کَانَ بَدْءُ الْوَحْیِ میں آتی ہے۔اس میں اس واقعہ کا