تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 292
اس نے حکم دے دیا کہ اس کو ابھی پھانسی پر لٹکادیا جائے۔وہ جمعہ کا دن تھا اور ظہر کے قریب کا وقت تھا۔بلکہ ظہر کا وقت بھی ڈھل چکا تھا جب حضرت مسیحؑ کو صلیب پر لٹکایا گیا۔عصر کے قریب تیز آندھی آگئی۔وہ اتنی تیز تھی کہ اس نے تمام جو ّ کو اندھیرا کر دیا۔اس وقت بعض نے کہا کہ اگر اسی حالت میں شام ہو گئی اور ہمیں وقت کا علم نہ ہو سکا تو چونکہ شام سے سبت کا آغاز ہو جائے گا اس لئے ساری قوم لعنتی ہو جائے گی۔بہتر یہ ہے کہ ان کو جلدی صلیب سے اتار لیا جائے ا یسا نہ ہو کہ شام کا وقت ہو جائے یسوع صلیب پر لٹکا رہے اور ساری قوم پر لعنت پڑ جائے۔اس موقعہ پر یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ یہودیوں نے کیوں یہ اعتراض نہ کیا کہ مسیحؑ کو جمعہ کے دن صلیب پر لٹکایا نہ جائے بلکہ کسی اور دن اسے صلیب دیا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک تو یہود کا پہلو کمزور تھا اگر وہ کہتے کہ جمعہ کے دن مسیحؑ کو صلیب نہ دی جائے تو چونکہ مسیحؑ پر بغاوت کا الزام تھا پیلاطوس ان کو کہہ سکتا تھا کہ اگر اس دوران میں یہ شخص بھاگ گیا یا اس کوماننے والے اس کو چھڑا کر لے گئے تو اس کا کون ذمہ دار ہوگا اور یہ ایک ایسی بات تھی جس کا یہود کے پاس کوئی جواب نہ ہوتا۔دوسرے چونکہ قاعدہ تھا کہ اگر کوئی شخص صلیب پر نہ مرتا تو اس کی ہڈیاں توڑ کر اس کو ماردیا جاتا تھا۔اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ اگر یہ صلیب پر زندہ رہا تب بھی اس کی ہڈیاں توڑی جائیں گی۔ہمیں اس وقت یہ سوال نہیں اٹھانا چاہیے کہ جمعہ کو اسے صلیب پر نہ لٹکایا جائے کیونکہ ہم نے اس پر الزام یہ لگایا ہے کہ یہ حکومت کا باغی ہے اگر ہم نے سزا کی التواء کے متعلق کوئی سوال اٹھایا تو پیلاطوس کہے گا کہ حکومت کے باغی کو تو فوراً مارنا چاہیے تم یہ سوال کیوں اٹھاتے ہو کہ اسے ابھی زندہ رہنے دیا جائے اور ایک دو دن گزرنے کے بعد اسے صلیب پر لٹکایا جائے۔بہرحال یہود نے کوئی مزاحمت نہ کی اور حضرت مسیحؑ کو جمعہ کے دن پچھلے پہر صلیب پر لٹکادیا گیا۔مگر چونکہ پیلاطوس دل سے مسیحؑ کا خیرخواہ تھا اور اپنی بیوی کے خواب کی وجہ سے وہ ڈر بھی چکا تھا اس لئے اس نے مسیحؑ کو صلیب دیتے وقت فوج کا ایک ایسا دستہ مقرر کیا جس کا افسر خود مسیحؑ کا مرید تھا۔اسی طرح پہرہ داروں اور پولیس کے حاضر الوقت سپاہیوں میں سے بھی بعض حضرت مسیحؑ کے مرید تھے۔چنانچہ اس کا ظاہری ثبوت اس امر سے ملتا ہے کہ جب حضرت مسیحؑ درد کی شدت کی وجہ سے چلائے تو پہرہ داروں میں سے ایک نے جلدی سے اسفنج کا ایک ٹکڑا لیا اور اسے شراب اور مُر سے بھگو کر حضرت مسیحؑ کو چوسنے کے لئے دیا۔پادری لوگ دانستہ یا ناواقفیت سے جب واقعہ صلیب کے متعلق تقریر کرتے ہیں تو جس طرح شیعہ لوگ واقعات کربلا کو زیادہ سے زیادہ دردناک رنگ میں پیش کرتے ہیں اور معمولی باتوں کو بھی بڑھاچڑھا کر بیان کردیتے ہیں اسی طرح وہ بھی بعض دفعہ تقریر کرتے ہوئے کہتے ہیں دیکھو خدا کے بیٹے سے کس قدر دشمنی کی گئی کہ جب وہ سخت تکلیف میں مبتلا تھا اور شدت درد کی وجہ سے کراہ