تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 291
تھے ان کے متعلق دستور یہ تھا کہ ہتھوڑے مار مار کر ان کی ہڈیاں توڑی جاتی تھیں۔اور اس طرح ان کو ہلاک کیا جاتا۔دراصل صلیب کے معنے بھی یہی ہیں کہ ہڈی توڑ کر گودا باہر نکال دینا اور یہ نام اس لئے رکھا گیا تھا کہ اکثر لوگ صلیب پر مرتے نہیں تھے بلکہ بعد میں ان کی ہڈیاں توڑ کر گودا نکالاجاتا تھا۔یہ لفظ خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ خیال بالکل غلط ہے کہ صلیب پر جلدی موت واقعہ ہوجاتی تھی۔پھر مسیحؑ کی صلیب کے وقت اور بھی کئی غیر معمولی واقعات ہوئے۔اوّل جب مسیحؑ پر مقدمہ ہوا تو پیلاطوس جس کے پاس فیصلہ کے لئے یہ مقدمہ تھا اس کی بیوی نے ایک منذر رئویا دیکھا جس کی بنا پر اس نے پیلاطوس کو کہلا بھیجا کہ ’’تو اس راستباز سے کچھ کام نہ رکھ کیونکہ میں نے آج خواب میں اس کے سبب بہت دکھ اٹھا یا ہے‘‘ (متی باب ۲۷ آیت ۱۹)۔پیلا طوس نے حضرت مسیحؑ کو چھوڑنے کی بہت کوشش کی مگر یہودیوں نے اصرار کیا کہ ہم اسے ضرور سزا دلوائیں گے اور چونکہ حضرت مسیحؑ پر باغی ہونے کا الزام تھا۔یہودیوں نے اسے دھمکی دی کہ اگر تم نے اسے چھوڑ دیا تو ہم تم پر یہ الزام لگائیں گے کہ تم نے ایک باغی کا ساتھ دیا ہے۔جب اسے سخت مجبور کیا گیا تو اس نے ’’پانی لے کر بھیڑ کے آگے اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا میں اس راستباز کے خون سے پاک ہوں۔تم جانو۔تب سب لوگوں نے جواب میں کہا اس کا خون ہم پر اور ہماری اولاد پر ہو‘‘ (متی باب ۲۷ آیت ۲۴،۲۵)۔دوسرے پیلاطوس نے مسیحؑ کو ایسے وقت میں پھانسی کا حکم دیا جبکہ دوسرے دن سبت تھا۔(مرقس باب۱۵ آیت ۴۲) میں بتا چکا ہوں کہ جس شخص کو صلیب پر لٹکایا جاتا تھا وہ جلدی نہیں مرتا تھا بلکہ تین سے سات دن تک زندہ رہتا تھا اور بعض لوگ سات دن کے بعد بھی زندہ رہتے تھے۔ایسے لوگوں کی ہڈیاں توڑ کر ان کو ہلاک کیا جاتا تھا۔بہرحال ایک دو دن تک صلیب پر لٹکنے کی وجہ سے کوئی شخص مرتا نہیں تھا۔بے شک زخموں کی وجہ سے انہیں تکلیف ہوتی تھی مگر یہ تکلیف ان کی موت کا موجب نہ بنتی تھی۔ہم دیکھتے ہیں کہ چوروں اور ڈاکوئوں سے بعض دفعہ مقابلہ ہوتا ہے تو کئی لوگوں کے سر پھٹ جاتے ہیں۔مگر پھر بھی وہ پانچ پانچ سات سات دن تک زیر علاج رہتے ہیں اور پھر ان میں سے بھی کئی بچ جاتے ہیں۔بہرحال اس قسم کے زخم فوری ہلاکت کا موجب نہیں ہوتے۔حضرت مسیحؑ اسی صورت میں صلیب پر فوت ہوسکتے تھے جب انہیں سات۷ دن تک صلیب پر لٹکا رہنے دیا جاتا اور پھر ان کی ہڈیاں بھی توڑی جاتیں۔مگر پیلاطوس چونکہ مسیحؑ کے ساتھ تھا اس لئے اس نے مسیحؑ کی صلیب کے لئے ایسا وقت مقرر کیا جبکہ دوسرے دن سبت تھا اور یہود کا یہ عقیدہ تھا کہ اگر سبت کے دن کوئی شخص پھانسی پر لٹکا رہے تو ساری قوم لعنتی ہوجاتی ہے (استثناء باب ۲۱آیت ۲۲،۲۳)۔بہرحال جب پیلاطوس سے اصرار کیا گیا کہ مسیحؑ کو ضروری پھانسی دی جائے۔تو