تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 293
رہا تھا تو اس وقت کم بخت ظالموں نے شراب اور مُر میں اسفنج بھگو کر اس کے مونہہ میں ڈالا اور اس طرح آخری وقت میں اسے اور زیادہ تکلیف اور دکھ میں ڈالا۔حالانکہ تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ صلیب پر لٹکائے جانے والوں میں سے جب کسی کی رعایت منظور ہوتی اور اس کی تکلیف کو کم کرنا مناسب سمجھا جاتا تو اسے شراب اور مُر کا مرکب پلایا جاتا تھا(Jewish Encyclopedia Under Word Crucifixion)۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ اناجیل میں شراب اور مُر کا ذکر نہیں آتا بلکہ اتنا ذکر آتا ہے کہ جب حضرت مسیحؑ شدت درد کی وجہ سے چلائے تو ’’ایک نے دوڑ کر اسفنج کو سرکے میں بھگو کر اور ایک نرکٹ پر رکھ کے اسے چسایا‘‘ (مرقس باب ۱۵ آیت ۳۶)۔مگر سرکہ میں بھگو کر اسفنج منہ میں دینا اس زمانہ کے دستوروں میں کہیں ثابت نہیں۔پھر وجہ کیا ہے کہ وہاں سرکہ اور اسفنج رکھا تھا۔کیا لوگ بلا وجہ سرکہ اور اسفنج ساتھ رکھا کرتے ہیں؟ کیا کسی مجلس میں سرکہ اور اسفنج طلب کیا جائے تو فوراً مل جائے گا؟ پس یہ روایت دیدہ و دانستہ یا حقیقت سے ناواقفی کی وجہ سے بیان کی گئی ہے۔اصل بات یہی ہے کہ اس زمانہ کے خیال کے مطابق کہ زخموں کی تکلیف دور کرنے کے لئے مُر اور شراب دینی چاہیے حضرت مسیحؑ کے مریدوں نے اس جگہ شراب اور مُر رکھے ہوئے تھے۔جب وہ شدت درد سے چلائے تو انہوں نے دوڑ کر اسفنج اس میں بھگو کر چسادیا (دیکھو جیوش انسائیکلوپیڈیا جلد ۴ زیر لفظ صلیب)۔اس حوالہ کے اصل الفاظ یہ ہیں۔The details given in the New Testament accounts (Matt۔XXVII) of the crucifixion of Jesus agree on the whole with the procedure in vogue under Roman Law۔Two modifications are worthy of note: (1) In order to make him insensible to pain a drink (Matt۔XXVII) was given him۔This was in accordance with the humane Jewish provision (Maimonides, "Yad, Sanh XIII, Sanh 43A) (2) The Beverage was a mixture of Myrrh and wine, given "so that the delinquent might lose clear, consciousness through the ensuing intoxication"۔(Jewish Encyclopedia Under Word Crucifixion) یعنی انجیل میں یسوع کے صلیب پر لٹکائے جانے کی جو تفصیل بیان کی گئی ہے وہ عام طور پر اس رومن قانون