تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 261

بنی نوع انسان کی ایک تکمیل کی اور یہ عمارت بڑھتے بڑھتے کہیں کی کہیں جانکلی۔تفسیر۔اوپر بتایا جاچکا ہے کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ کے مختلف معانی ہوسکتے ہیں۔یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ہم نے انسان کو بہترین وجود بنایا ہے۔یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ہم نے انسان کو بہترین طاقتیں دے کر پیدا کیا ہے اور یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ انسان کو ہم نے بڑا صنّاع بنایا ہے۔اس کے اندر تقویم کی طاقت رکھی ہے اور وہ اعلیٰ سے اعلیٰ روحانی اور جسمانی پیدائش کرسکتاہے۔انسان کے متعلق چھ مختلف نظریے یہ دعویٰ جو اسلام نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اس کے متعلق مختلف مذاہب میں چھ بڑے بڑے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ان چھ اختلافات میں سے ایک عقیدہ تو وہ ہے جو اسلام پیش کرتاہے اور پانچ عقائد وہ ہیں جو اور مذاہب دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ذیل میں ان تمام عقائد کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔پہلا نظریہ پہلا عقیدہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ انسان برائی کا میلان لے کر دنیا میں پیدا ہوا ہے۔ہاں سدھارنے سے وہ سدھر بھی جاتا ہے۔گویا انسان کا فطرتی میلان برائی کی طرف ہے اور پیدائش کے دن سے ہی ایک کمزوری اس کے اندر رکھ دی گئی ہے گو اصلاح کے لئے بھی اسے طاقتیں دی گئی ہیں۔بالفاظ دیگر ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان لچک دار تو ضرور ہے مگر اس کی بنیاد گند پر ہے۔جیسے وہ درخت جو دلدل میں اگتا ہے لچک دار تو ہوتا اور اگر ہم اسے کھینچ کر خشکی کی طرف لائیں تولا سکتے ہیں لیکن بہرحال اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس کی جڑیں ایک گندی زمین میں ہیں۔دوسرا نظریہ دوسرادعویٰ یہ کیاجاتا ہے کہ انسان بھلائی کو لے کر پیدا ہوا تھا۔مگر پہلے انسان سے ہی بدی کا ارتکاب ہوگیا اور اس نے بدی کا ارتکاب کرلیا اور چونکہ انسان ایسی طرز پر دنیا میں آیا ہے کہ وہ ماں باپ سے ضرور ورثہ کا اثر لیتا ہے اس لئے بوجہ اس کے کہ پہلے ماں باپ یعنی آدمؑ اور حوّا نے گناہ کیا تھا اب ان کی اولاد باوجود اپنی فطرت میں نیکی رکھنے کے گناہ کرنے پر مجبور ہے۔بے شک ان کی فطرت انہیں نیکی کی طرف مائل کرتی ہے مگر چونکہ باپ نے انہیں ورثہ میں گناہ دیا ہے اس لئے گناہ کی طرف میلان ان کی فطرت میں چلتا چلا جاتا ہے کیونکہ یہ ورثہ کا اثر ہے جو ان کے اندر آگیا ہے۔وہ کہتے ہیں انسان میں دو قسم کی طاقتیں ہوتی ہیں ایک ذاتی اور ایک اکتسابی۔ذاتی قوت انسان کے اندر بے شک نیکی کی ہے مگر چونکہ گناہ اسے ورثہ میں مل گیا ہے اس لئے ورثہ کے گناہ نے اس کی فطرتی نیکی میں آمیزش کردی ہے جس سے وہ بلا کسی اور امداد کے آزاد نہیں ہوسکتا۔اس کے بعد وہ کہتے ہیں جب خدا نے دیکھا