تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 262
کہ انسان کسی صورت میں بھی اس گناہ سے بچ نہیں سکتا تو اس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ تم اگر لوگوں کی خاطر قربانی کرو اور بے گناہ ہوکر لوگوں کے گناہوں کے بدلے قربان ہوجائو تو دنیا اس مصیبت سے نجات حاصل کرسکتی ہے۔بیٹے نے اس تجویز کو مان لیا اور خد انے اس سے کہا کہ اب تم انسان کی صورت میں دنیا میں جائو۔لوگوں کو یہ مقدرت حاصل ہوگی کہ وہ تمہیں ماریں پیٹیں، سزائیں دیں اور بالآخر پھانسی پر لٹکادیں۔بے شک انسان بن کر لوگوں کے ہاتھوں سے تم یہ سب دکھ برداشت کرو گے مگر چونکہ بے گناہ ہونے کی حالت میں تم کو یہ دکھ ملے گا اس لئے خدا تعالیٰ اس کے بدلہ میں ساری دنیا کے گناہ بخش دے گا۔پس دوسرا خیال یہ ہے کہ انسان کی اصل فطرت تو نیک ہے مگر چونکہ پہلے انسان سے ہی گناہ ہوگیا اس لئے فطرت کی نیکی کے باوجود ورثہ میں ہر انسان کے اندر گناہ کا مادہ آگیا۔اس گناہ سے وہ کفارہ مسیحؑ پر ایمان لائے بغیر نجات حاصل نہیں کرسکتا۔تیسرا نظریہ تیسر انظریہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ انسان کسی خاص ملکہ کو لے کر پیدا نہیں ہوا۔یہ کہنا کہ اس کی فطرت میں نیکی ہے یا یہ کہنا کہ اس کی فطرت میں بدی ہے یہ دونوں خیال غلط ہیں۔انسان بعض تقاضے لے کر دنیا میں آتا ہے جو نہ نیک ہوتے ہیں نہ بد۔مثلاً شجاعت، تہوّر، محبت، سخاوت، رفق اور غضب وغیرہ کئی قسم کے مادے ہیں جو انسان کے اندر پائے جاتے ہیں۔اس کے بعد وہ اپنی تعلیم و تربیت سے متاثر ہوتا اور اس کے مطابق بن جاتا ہے۔گویا ہر انسان حالات سے مجبور ہے۔یعنی یوں تو اس کی فطرت آزاد ہے مگر ماحول میں وہ آزاد نہیں رہتا۔جس قسم کا ماحول اسے میسر آتا ہے اسی قسم کا رنگ اس پر چڑھ جاتا ہے۔مثلاً اگر اس کے ماں باپ ہندو ہیں تو وہ ہندو بن جائے گا یا اپنے محلہ کے لڑکوں سے کھیلتا ہے تو جس قسم کے اخلاق ان کے ہوتے ہیں اسی قسم کے اخلاق اس میں بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔بہرحال حالات اسے مجبو رکرکے نیکی یا بدی کی طرف لے جاتے ہیں۔اگر حالات اچھے ہوں تو وہ اچھا بن جاتا ہے اور اگر بُرے ہوں تو وہ بُرا بن جاتا ہے۔گویا اس کی زندگی کا تمام دارومدار اس کے ماحول پرہے اور وہ نیک یا بد حالات کی مجبوری کی وجہ سے ہوتا ہے۔اس وجہ سے نہیں ہوتا کہ اس کے اندر نیکی یا بدی کا کوئی مادہ پایا جاتا ہے بلکہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اس کا ماحول اسے مجبور کرکے کبھی نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور کبھی بدی کی طرف لے جاتا ہے۔یہ فرائیڈ کی تھیوری ہے جو آج کل کے فلسفیوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہے۔چوتھا نظریہ چوتھا خیال لوگوں میں یہ پایا جاتا ہے کہ انسان مجبور پید اکیاگیا ہے۔گویا وہ مجبور ہے قانون الٰہی سے۔یہ آج کل کے بگڑے ہوئے صوفیوں کا خیال ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ انسان وہی کچھ کرتا ہے جو اس کی تقدیر میں لکھا ہوتا ہے اور اگر انہیں کسی اصلاح کی طرف توجہ بھی دلائی جائے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ جب ہماری تقدیر میں گناہ