تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 260

صفت ایک دن ظاہر ہوگی اور اس طرح دنیا پر ثابت ہوجائے گا کہ ہم نے انسان کو احسن تقویم کی قوت دے کر بھیجا ہے۔آدمؑ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ کا ثبوت ہے، نوحؑ احسن تقویم کا ثبوت ہے، موسٰی احسن تقویم کا ثبوت ہے اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احسن تقویم کا ثبوت ہیں۔تم دیکھو گے کہ ان کی تعلیم اور تربیت کے نتیجہ میں انسان کیسی کیسی قوتیں ظاہر کرتا ہے۔یہ چار دور جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے درحقیقت انسانی تکمیل کے چار دور ہیں۔آدمؑ دور تمدّن کا بانی ہے۔نوحؑدور شریعت کا مؤسّس HERO ہے۔موسٰی دورِ تفصیل کی بنیاد رکھنے والے ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دورِ تکمیل کے بانی ہیں۔انسانیت کی تشکیل آدمؑ نے کی۔شریعت کی بنیاد نوحؑنے رکھی لیکن شریعت کی تفاصیل موسٰی نے بیان کیں اس کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریعت کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کئے گئے۔آپ آئے اور آپ نے انسانیت اور تمدن کو بھی مکمل کیا۔آپ نے شریعت کو بھی مکمل کیا اور آپ نے تفصیل شریعت کو بھی تکمیل تک پہنچایا۔گویا وہ تینوںدور جو نامکمل تھے ان کو محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کمال تک پہنچادیا۔آپ نے دورِ تمدّن کو نقائص سے پاک کرکے ایک کامل اور بے عیب تمدّن دنیا کے سامنے رکھا۔آپ نے دورِ شریعت کو ہر قسم کے نقائص سے پاک کرکے ایک کامل اور بے عیب شریعت کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔اور آپ نے دور تفصیل کو ہر قسم کے نقائص سے منزہ کرکے ایک ایسا کامل اور بے عیب مجموعہ قانون دنیا کو دیا جس میں ضرورت کی ہرشے موجود تھی اور بے ضرورت کوئی چیز نہ تھی۔وہ کامل اور بے عیب تھی اپنی ہمہ گیری کے لحاظ سے اور کامل اور بےعیب تھی اپنی گہرائی کے لحاظ سے گویا وہ شریعت آپ نے دنیا کے سامنے پیش کی جو اپنی وسعت کے لحاظ سے بھی کامل تھی اور اپنے عمق کے لحاظ سے بھی کامل تھی۔نوحؑنے بے شک دنیا کے سامنے سب سے پہلے شریعت پیش کی مگر اس میں وسعت نہیں تھی صرف عمق تھا اور وہ بھی چند موٹے موٹے مسائل کے متعلق۔اس کے بعد موسٰی نے جو شریعت پیش کی اس میں وسعت تو تھی مگر تمام امور میں عمق نہیں تھا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شریعت کی گہرائیوں کو بھی مکمل کیا اور اس کی وسعت کو بھی مکمل کیا۔کوئی اخلاقی گہرائی نہیں تھی جس پر آپ پر نازل شدہ کتاب میں روشنی نہ ڈالی گئی ہو اور کوئی اخلاقی وسعت نہیں تھی جو آپ کی لائی ہوئی کتاب میں بیان نہ ہوئی ہو۔موسٰی سے شریعت کی کئی گہرائیاں رہ گئیں تھیں۔نوحؑسے شریعت کی کئی وسعتیں رہ گئی تھیں اور آدمؑ سے تمدّن کی کئی اہم باتیں رہ گئی تھیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو مکمل کیا اور اس طرح ثابت ہوگیا کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ہم نے انسان کو اعلیٰ درجہ کی تقویم کے ساتھ پید اکیا ہے۔ہر دور نے