تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 253
اس بات کے شاہد ہوں گے جس طرح موسٰی کے وقت ہوئے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ میں پیدا کیا ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِيْنِ کہ ہم اس بلد الامین کو بھی شہادت کے طو رپر پیش کرتے ہیں۔امین کے معنے یا تو اٰمِنٌ کے ہوتے ہیںاور یا مَاْمُوْنٌ کے ہوتے ہیں یعنی یا تو اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ بلد جو دنیا کو امن دیتا ہے اور یا پھر اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ بلد جس کو خدا نے مامون کردیا ہے۔میرے نزدیک بلدالامین کے دونوں معنے ہوسکتے ہیں یہ بھی کہ وہ شہر جو امن دینے والا ہے اور یہ بھی کہ وہ شہر جسے امن دیا گیا ہے۔امین کا لفظ جو اس آیت میں استعمال کیا گیا ہے اس سے صاف پتہ لگتاہے کہ جس وقت یہ سورۃ نازل ہوئی ہے اس وقت کے مکہ کی حالت کا اس میں ذکر نہیں کیونکہ اس وقت تو جو کچھ کیفیت تھی اس کا ذکر اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں کرچکا ہے کہ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ تجھے اس بلد میں حلال سمجھا جارہا ہے کوئی تکلیف نہیں جو تجھے نہ پہنچائی جاتی ہو اور کوئی ظلم نہیں جو تجھ پر توڑا نہ جاتا ہو۔ہرقسم کے تیروں کا نشانہ انہوں نے تجھ کو بنایا ہوا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایک جائز فعل کا ارتکاب کررہے ہیں۔جس شہر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے امن پسند انسان پر ظلم کیا جاتا تھا وہ بلدالامین کس طرح کہلاسکتا تھا۔پس بلدالامین سے درحقیقت مکہ کی وہ حالت مراد ہے جو فتح مکہ کے بعد پیدا ہوئی جب ہر قسم کے مظالم کا سلسلہ جاتا رہا تھااور مسلمانوںکو کفار پر غلبہ اور اقتدار حاصل ہوگیا تھا۔ورنہ فتح مکہ سے پہلے وہ بلدالامین کہاں تھا۔نہ اس میں روحانی لحاظ سے امن تھا نہ جسمانی لحاظ سے۔دینی امن لو تو مکہ وہ شہر تھا جہاں لوگوں کے ایمانوں پر ڈاکہ ڈالا جاتا تھا اورانہیں خدائے واحد کی پرستش کی بجائے بتوں کی پرستش کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور اگر جسمانی لحاظ سے دیکھو تو مکہ والوں کی طرف سے خطرناک سے خطرناک ظلم ایک ایسی قوم پر ہورہا تھا جو انصاف پسند اور مخلوق کی خیرخواہ تھی جو اس مقصد کو لے کر کھڑی ہوئی تھی کہ دنیا میں امن قائم ہونا چاہیے، ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کرنا چاہیے اور الٰہی فرائض کو پوری دیانت داری کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔کون کہہ سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک مقصد بھی ایسا ہے جس پر مکہ والوں کو غصہ آنا چاہیے تھا اور جس کی بنا پر انہیں اپنی ترکش کا ہر تیر مسلمانوں کے سینہ کی طرف پھینکنا چاہیے تھا مگر ہوا یہی کہ مسلمانوں کو دکھ دیا گیا، ان کو ستایاگیا، ان کو مارا گیا، ان کے ننگ وناموس پر حملہ کیا گیا اور انہیں شدید سے شدید عذاب میں ایک لمبے عرصہ تک مبتلا کیا گیا۔پھر یہی نہیں بلکہ ان کے محبوب آقا پر جس کی غلامی وہ اپنے لئے فخر کا موجب سمجھتے تھے اور جس کے اشارہ پر وہ اپنی ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار رہتے تھے متواتر اور مسلسل مظالم کئے گئے حالانکہ قوم کا آپ کے متعلق فتویٰ یہ تھا کہ آپ صدوق اور امین ہیں۔گویا مکہ میں ایک کافر کو امن حاصل تھا، ایک بت پرست کو امن حاصل تھا، ایک جھوٹے اور دغا باز کو امن حاصل تھا، ایک ظالم اور غاصب کو امن حاصل تھا