تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 252

آزاد ہوجاتے مگر پھر بھی وہ محکوم ہی رہتے۔لیکن طورِسینین کے واقعہ کے بعداللہ تعالیٰ نے ایسی برکات نازل کیں کہ نہ صرف بنی اسرائیل فرعون کی غلامی سے ہمیشہ کے لئے آزاد ہوگئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے آئندہ بادشاہت کا وعدہ دے کر یہودی قوم کی حکومت کی بنیاد رکھ دی جو ایک ہزار سال تک نہایت مضبوطی کے ساتھ قائم رہی۔یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ یہاں یہ مضمون بیان کررہا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہاری تدبیروں سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔تین اور زیتون اور طورِ سینین کے واقعات تمہارے سامنے ہیں۔آدمؑکو شیطان نے دھوکا دیا تو تین نے اس کا ننگ ڈھانک لیا۔نوحؑکے زمانہ میں طوفان آیا تو زیتون کی شاخ سے اس کو خوشخبری ملی۔مصر سے موسٰی کو بھاگنا پڑا تو طورِ سینین پر اس کو پناہ مل گئی۔چونکہ یہاں غلبہ اور ترقی کا مضمون ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے دشمن کی تکالیف والے حصہ کو بیان نہیں کیا۔ورنہ دراصل وَ التِّيْنِ کے معنے ہیں شیطان کا آدمؑکو دھوکا دینا اور تین سے اس کا کامیاب ہونا۔وَ الزَّيْتُوْنِ کے معنے ہیں نوح کے لئے عرصہ حیات کا تنگ کیا جانا۔طوفان آنا اور پھر زیتون سے نوحؑکو اپنی کامیابی کی بشارت ملنا۔طُوْرِ سِيْنِيْنَ کے معنے ہیں مصرسے موسٰی کا بھاگنا اور طُوْرِ سِيْنِيْنَ پر اس کو اپنی کامیابیوں کی بشارات ملنا اور هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِيْنِ کے معنے ہیں مکہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھاگنا اور پھر آپ کا فاتح اور حکمران ہونے کی حیثیت سے مکہ میں واپس آنا۔مگر تکالیف اور ہجرت وغیرہ کا ذکر چونکہ مضمون سے خود بخود نکل آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر محض اشارۃً کیا ہے۔اصل ذکر غلبہ اور کامیابی کا کیا ہے تاکہ دشمن اپنی عارضی کامیابی پر خوش نہ ہو اور وہ یہ خیال نہ کرے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے انبیا ء کو شکست دےدی ہے۔غرض طُوْرِ سِيْنِيْنَ میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ موسیٰ کو جب مصر سے نکالا گیا تو فرعون تو سمند ر کی تہہ میں ڈوبا مگر موسٰی کو ہم نے پہاڑ پر تجلی دکھائی۔گویا ایک نیچے کی طرف چلا گیا اور دوسرا اوپر کی طرف نکل گیا۔تجلی دونوں نے ہی دیکھی مگر ایک نے سمندر کی تہہ میں دیکھی اور دوسرے نے طورِ سینین پر تجلی دیکھی۔اے مکہ والو! تمہارے ساتھ بھی یہی ہونے والا ہے۔بظاہر موسٰی فرعون اور اس کی قوم کے مظالم سے تنگ آکر مصر سے بھاگ گئے تھے وہ اپنے گھروں سے نکل گئے تھے انہوں نے اپنے مکانوں اور اپنی جائیدادوں کو چھوڑ دیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے طورِ سینین پر موسٰی کو تجلی دکھا دی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے اپنی قوم کے غلبہ کا وعدہ مل گیا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی طورِ سینا تیار ہورہا ہے۔یہ طورِ سینا مدینہ تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا۔فرماتا ہے کہ تم خود سمجھ لو کہ تمہارے لیے کیا مقدر ہے؟ محمد ؐرسول اللہ کو نکال کر دیکھ لو میں فرعون کی طرح تم کو غرق کردوں گا اور محمدؐ رسو ل اللہ کو طورِ سینا پر بلند جگہ دوں گا اور ثابت کردوں گا کہ انسانی فطرت پاک ہے۔پاک فطرت لوگ اس کی طرف دوڑیں گے اور