تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 254
لیکن اگر کسی شخص کو مکہ میں امن حاصل نہیں تھا تو صرف اس کو جو قوم میں صدوق اور امین مشہور تھا(صحیح بخاری کتاب التفسیر سورۃ الشعراء باب وَ اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ)۔غرض روحانی طو رپر دیکھ لو یا جسمانی طور پر مکہ کو اس وقت کی حالت کے لحاظ سے قطعی طور پر بلد الامین نہیں کہا جاسکتا تھا۔روحانی طور پر یہ کیفیت تھی کہ مکہ میں لوگوں کے ایمانوں کو لوٹا جاتا تھا۔کبھی کہاجاتا لات پر چڑھاوا چڑھائو۔کبھی کہا جاتا عزیٰ پر چڑھاوا چڑھائو۔کبھی منات اور ھبل اور دوسرے بتوں کی پرستش پر مجبور کیا جاتا۔یہ بت پرستی مکہ میں اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ بیت اللہ جو خدائے واحد کی عبادت کے لئے بنایا گیا تھا خود اس میں تین سو ساٹھ بت رکھے گئے تھے اور ہر روز ایک نئے بت کے سامنے اپنے سر جھکائے جاتے تھے۔پس بلد الامین میں مکہ کی اس حالت کا ذکر نہیں جو اس سورۃ کے نازل ہونے کے وقت تھی بلکہ ان الفاظ میں اس آخری ترقی کا ذکر ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کے بعد حاصل ہونے والی تھی۔تِیْن بھی ہجرت کے بعد کا واقعہ ہے جب آدمؑ شیطان پر کامیاب ہوئے۔زَیْتُوْن بھی ہجرت کے بعد کا واقعہ ہے جب نوحؑطوفان سے بچے۔طُوْرِ سِيْنِيْنَ بھی ہجرت کے بعد کا واقعہ ہے جب موسٰی کو آئندہ ترقیات کی خوشخبری ملی۔اسی طرح بَلَدِ الْاَمِيْنِ بھی ہجرت کے بعد کا واقعہ ہے جس کی ابتدائی مکی زندگی میں پیشگوئی کردی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ گو آج مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں مگر ایک دن آنے والا ہے جب مکہ تمہارے لئے اور سب دنیا کے لئے بلدالامین ہوگا۔ہر قسم کے مظالم کا سلسلہ مٹ جائے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آ پ کے ساتھیوں کو امن حاصل ہوجائے گا۔گویا ہجرت بجائے مضر ہونے کے اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کا ذریعہ ثابت ہوگی۔تم سمجھو گے کہ ہم نے اسلام کو تباہ کردیا مگر خدا تعالیٰ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر اس شہر میں واپس لائے گا۔آپ کو فتح اور کامرانی عطا کرے گا، آپ کے ہاتھ سے مکہ کے ایک ایک بت کو تڑوائے گا، شرک کا قلع قمع کردیا جائے گا اور خدائے واحد کا نام مکہ کی گلی کوچوں میں گونجنا شروع ہوجائے گا اور اس طرح روحانی امن قائم ہوجائے گا اس کے علاوہ اس وقت تم میں یہ طاقت نہ رہے گی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کی طرف نظربد سے دیکھ سکو یا غریبوں پر ظلم کرسکو اور اس طرح جسمانی طور پر مکہ بلدالامین ہوجائے گا اور اگر امین کے معنے مامون کے لو تو اس آیت کا یہ مفہوم ہوگا کہ گو مکہ ہمیشہ سے محفوظ چلا آتا ہے مگر ایک موقع ایسا آنے والا ہے جب اس کو قسراً فتح کیا جائے گا۔جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اِنَّ اللہَ حَرَّمَ مَکَّۃَ وَلَمْ یَـحِلُّ لِاَحَدٍ قَبْلِیْ وَلَا لِاَحَدٍ بَعْدِیْ وَ اِنَّـمَا حَلَّتْ لِیْ سَاعَۃً (بخاری کتاب البیوع باب ما قیل فی الصواع) کہ مکہ بلدالحرام ہے اور قیامت تک حرام ہی رہے گا کسی شخص کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ مکہ پر حملہ کرے یا اس کی حرمت کو کسی اور رنگ میں توڑنے کی