تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 251

وہ کلام آپ پر نازل کیا جس میں یہودی قوم کو دس ایسے احکام دیئے گئے تھے جو تمام تورات کا مغز سمجھے جاتے ہیں۔بائبل سے بھی یہی پتہ لگتا ہے کہ طور کا واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مصر سے نکل آنے کے بعد ہوا ہے۔چنانچہ خروج میں پہلے ہجرت کا ذکر کیا گیا ہے پھر دشت سینا میں بنی اسرائیل کے پہنچنے کا ذکر آتا ہے اور پھر آخر میں طور کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔یہ ترتیب ظاہر کررہی ہے کہ ہجرت پہلے ہوئی ہے اور واقعہ طور بعد میں ہوا ہے۔ہجرت کا ذکر خروج باب ۱۴ میں آتا ہے۔دشت سینا میں پہنچنے کا ذکر خروج باب ۱۶ میں آتا ہے اور واقعہ طور کا ذکر خروج باب ۱۹ میں آتا ہے۔خروج باب ۱۴ میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کا خلاصہ پرانی بائبل میں اس طرح درج ہے۔’’اس بیان میں کہ خدا بنی اسرائیل کو ان کی راہ بتاتا فرعون اُن کا پیچھا کرتا۔بنی اسرائیل کُڑکُڑاتے۔موسیٰ ان کو دلاسا دیتا۔خدا موسیٰ کو سکھلاتا۔بدلی کا ستون لشکر کی پشت پرجا ٹھہرتا۔بنی اسرائیل دریائے قلزم کے بیچ سے ہوکے جاتے اسی میں اہل مصر غرق ہوتے‘‘۔یہ تو ہجرت کا واقعہ ہوا۔اس کے بعد خروج باب ۱۶ کا خلاصہ یوں لکھا ہے۔’’اس بیان میں کہ بنی اسرائیل سین میں جاپہنچتے۔خوراک نہ ہونے کے باعث سب کُڑکُڑاتے۔خدا آسمان سے روٹی بھیجنے کا وعدہ کرتا۔ان کے لئے بٹیریں بھیجی جاتیں۔من بھی بھیجا جاتا۔ہر ایک کو من کے جمع کرنے کا حکم ہوتا۔سبت کے دن وہ نہ مل سکے گا۔من کا اُومر بھر قرنوں کو دکھانے کے لئے حفاظت سے رکھتے‘‘۔اس کے بعد خروج باب ۱۹ کا خلاصہ ان الفاظ میں درج ہے۔’’اس بیان میں کہ بنی اسرائیل سینا کے بیابان میں آتے ان کے لئے خدا کا پیغام پہاڑ پر سے موسیٰ کی معرفت آتا۔وے لوگ اس کا جواب دیتے۔تیسرے دن کے لئے تیار ہوجاتے۔پہاڑ کا چھونا منع ہوتا۔پہاڑ کے اوپر یہوواہ ہیبت ناک وضع سے ظاہر ہوتا‘‘۔غرض بائبل اور قرآن دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ ہجرت کا واقعہ پہلے ہوا ہے اور طور کا واقعہ بعد میں۔غرض اللہ تعالیٰ آدمؑ اور نوحؑ کی مثالیں پیش کرنے کے بعد فرماتا ہے ہم تیسری مثال تمہارے سامنے موسٰی کی پیش کرتے ہیں۔موسٰی کو دشمن کے مظالم کی وجہ سے ہجرت کرنی پڑی تھی اور وہ اپنی قوم کو ساتھ لے کر مصر سے باہر نکل آیا تھا۔موسیٰ کے دشمنوں نے سمجھا ہوگا کہ چلو چھٹی ہوئی۔ہمیں اس کے فتنہ سے نجات ملی مگر خدا نے اس ہجرت کو دشمنوں کی تباہی اور بنی اسرائیل کی ترقی کا موجب بنا دیا۔اگر یہ لوگ مصر میں ہی رہتے تو خواہ فرعون کے مظالم سے