تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 250

کی طرف اشارہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ مختلف قوموں میں مختلف علاقوں کو سینا کہتے ہوں۔مثلاًعرب لوگ پنجاب اور اس کے اردگرد کے علاقہ کا نام ہند رکھ دیتے ہیں۔چنانچہ عربی کتابوں میں بعض جگہ لکھا ہوتا ہے کہ ہند اور بنگال میں فلاں فلاں بات پائی جاتی ہے حالانکہ ان دنوں بنگال ہندوستان کا حصہ ہے مگر وہ چونکہ صرف پنجاب اور اس کے اردگرد کے علاقہ کا نام ہند رکھ دیتے ہیں اس لئے بنگال کو وہ علیحدہ شمار کرتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگ افغانستان صرف قندھار تک کے علاقہ کو کہتے ہیں۔بعض افغانستان کی حدود پشاور تک سمجھتے ہیں اور بعض دریائے سندھ تک کے علاقہ کو افغانستان قرار دیتے ہیں اس لحاظ سے طُوْرِ سِيْنِيْنَ کے الفاظ میں اس طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس علاقہ میں سینا کے نام سے کئی دشت مشہور ہیں مگر وہ پہاڑ جس پر موسٰی سے کلام ہوا ایک ہی ہے ہم ان سینائوں کے طور کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔میں بتاچکا ہوں کہ وَ التِّيْنِ وَ الزَّيْتُوْنِ میں آدمؑ اور نوحؑکی ہجرتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ باوجود اس کے کہ ان ہجرتوں سے دشمن کو ایک جھوٹی خوشی حاصل ہوئی اور اس نے سمجھا کہ میں کامیاب ہوگیا ہوں پھر بھی خدا نے اپنے نبیوں کو کامیاب کیا اور دشمن کو ان کے مقابلہ میں ذلیل اور رسوا ہونا پڑا۔اسی طرح اب مکہ والوں کا یہ خیال کرنا صریح نادانی ہے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکال کر کامیاب ہوجائیں گے جس طرح سابق انبیاء کے دشمنوں کایہ خیال کہ ہم جیت جائیں گے اور نبی ہار جائے گا باطل ثابت ہوا تھا اسی طرح اب بھی مکہ والوں کا خیال باطل ثابت ہوگااور اللہ تعالیٰ ان کی جھوٹی خوشی کو ایک دن ہمیشہ کی ذلت اور رسوائی میں بدل دے گا۔اب اسی مضمون کی وضاحت کے لئے اللہ تعالیٰ موسٰی کی ہجرت کا واقعہ بطور مثال پیش کرتا ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ طور کا واقعہ ہجرت کے بعد ہوا ہے چنانچہ قرآن کریم کے ابتداء میں ہی جہاں بنی اسرائیل کا ذکر کیا گیا ہے وہاں آتا ہے وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَيْنٰكُمْ۠ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۔وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ (البقرۃ:۵۱،۵۲) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے بنی اسرائیل یا دکر وجب ہم نے تمہارے لئے سمندر کو پھاڑ دیا تھا ہم نے تمہیں نجات دی اور آل فرعون کو ہم نے غرق کردیا اور تم دیکھ رہے تھے پھر اس وقت کو یاد کرو جب موسٰی سے ہم نے چالیس راتوں کا وعدہ کیا (جب آپ سینا کے پہاڑ پر تشریف لے گئے تھے) اور تم نے بچھڑے کو مبعود بنا کر شرک کا ارتکاب شروع کردیااور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ظالم بن گئے۔ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت پہلے ہوئی ہے اور طور کا واقعہ بعدمیں ہوا ہے۔پہلے آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر کو چھوڑا پھر خدا تعالیٰ آپ کو طور پر لے گیا۔جہاں اس نے