تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 249

کو طور کہتے ہیں(The Jewish Encyclopedia under word "Sinai Mount")۔مگر میرے نزدیک یہ درست نہیں کہ اس پہاڑ کا نام طور تھا۔طور کے معنے پہاڑ کے ہیں اور طور کے لفظ سے اس پہاڑ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس پر حضرت موسٰی سے کلام ہوا اور اس واقعہ کو چونکہ ہزاروں لوگوں نے بار بار بیان کیا آہستہ آہستہ طور کالفظ ہی بجائے پہاڑ کے ایک خاص پہاڑ کا عَلَمیعنی مخصوص نام سمجھا جانے لگا۔بہرحال خلیج عقبہ کے اوپر ایک پہاڑی ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور تاریخوں سے ثابت ہے کہ یہودی ہمیشہ اس پہاڑی کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے۔میرے نزدیک قرآن کریم اور بائبل سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے اس کے لحاظ سے خلیج عقبہ کے اوپر والا علاقہ ہی سینا کا ہے اور اسی علاقہ میں وہ پہاڑ ہے جسے عرفِ عام میں طور کہا جاتا ہے۔مجھے تعجب آتا ہے کہ جب قرآن کریم اور بائبل دونوں سے اس علاقہ کا وجود ثابت ہے اور تاریخ بھی بتاتی ہے کہ یہودی ہمیشہ اس پہاڑ کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے (The Jewish Encyclopedia under word "Sinai Mount") تو پھر کسی مؤرخ کا کیا حق ہے کہ وہ یہ کہے کہ طور کوئی پہاڑ ہی نہیں تھا یا سینا کوئی علاقہ ہی نہیں تھا۔طُوْرِ سِيْنِيْنَ میں سینین لفظ جمع استعمال کرنے کی وجہ اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں سینین کا لفظ کیوں استعمال کیا جبکہ سورئہ مومنون میں وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَيْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰكِلِيْنَ(مؤمنون: ۲۱) کہہ کر اس کا نام سینا بتایا گیا ہے نہ کہ سینین۔اس کا جواب بعض لوگوں نے یہ دیا ہے کہ سینا اور سینین دونوں عَلَم ہیں لیکن بعض مفسرین نے کہا ہے کہ سینا کی بجائے سینین کا لفظ وقف کی وجہ سے بدل دیا گیا ہے (روح البیان زیر آیت طُوْرِ سِیْنِیْنَ) اور یہ ایسا ہی ہے جیسے سورئہ صافات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ يَاسِيْنَ(الصّٰفّٰت:۱۳۱) حالانکہ وہاں صرف ایک الیاس مرادہیں آخر میں یا اور ن کا اضافہ قافیہ بندی کے لئے کیا گیا ہے۔مگر ہمارے نزدیک یہ بات درست نہیں کہ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ يَاسِيْنَ میں صرف وقف کے لئے یا اور ن کا اضافہ کیا گیا ہے بلکہ جیسا کہ ہماری جماعت کا اعتقاد ہے الیاس کی بجائے الیاسین کا لفظ اللہ تعالیٰ نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ یہاں ایک سے زیادہ الیاس مراد ہیں۔ایک تو وہ الیاس ہیں جو اسرائیلی انبیاء کے وسط میں گزر چکے ہیں۔دوسرے الیاس یوحنا ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے معاً پہلے آئے اور تیسرے الیاس حضرت سید احمد صاحب بریلوی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے آئے۔چونکہ نزول قرآن سے پہلے دو الیاس دنیا میں آچکے تھے اور ایک الیاس نے ابھی آنا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے سَلَامٌ عَلٰی اِلْیَاسٍ کی بجائے سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ يَاسِيْنَ کہہ کر ان سب کی طرف اشارہ کردیا۔اسی طرح ممکن ہے سینا کے متعلق لوگوں میں جو اختلاف پایا جاتا ہے سینین میں اس