تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 248

ہے اور فلاں نے وہ چیز ایجاد کی ہے تو ان کے دلوں میں بھی شوق پیدا ہوتا ہے کہ ہم بھی کوئی نئی چیز ایجاد کریں۔اس پر بعض خیالات ان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں اور وہ فوراً اخبارات میں اعلان کرادیتے ہیں کہ ہم نے اس قسم کی چیز ایجاد کرلی ہے مگر جب زیادہ کرید کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایجاد کوئی نہیں صرف ایک نئی تھیوری انہوں نے پیدا کی ہے۔اسی طرح بعض مؤرخوں نے سمجھا کہ اگر ہم یہ کہہ دیں گے کہ حضرت موسٰی شمال کی طرف گئے تھے اورسینا بھی شمال میں ہی تھاتو تاریخ میں ہم بھی موجد سمجھے جائیں گے۔چنانچہ وہ معمولی معمولی شبہات کی بناء پر دوسروں کی باتوں کو ردّ کردیتے ہیںاور ایک نئی تھیوری اور نیا خیال پیدا کرکے خوش ہوجاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آئندہ جب بھی اس واقعہ کی تحقیق کی جائے گی لوگ کہیں گے کہ ایک تھیوری فلاں شخص کی بھی تھی اس پر بھی غور کرلیا جائے۔ایسے لوگوں کو تاریخ کی صحت مدنظر نہیں ہوتی بلکہ اپنی ذات کی شہرت ان کا سب سے بڑا مقصد ہوتا ہے۔بجائے اس کے کہ وہ حقائق پر غور کریں ان کو ہر وقت یہی شوق رہتا ہے کہ کسی طرح ہمارا نام نکل جائے۔ایسے ہی لوگ بعض دفعہ یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ موسٰی کوئی تھا ہی نہیں۔بعض کہہ دیتے ہیں کہ عیسٰیؑ کوئی شخص نہیں تھا۔بعض کہہ دیتے ہیں کہ سینا کوئی علاقہ نہیں تھا۔اسی طرح زرتشت ؑ کے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان کا کوئی وجود نہیں تھا۔یہی حال کرشنؑ اور رامچندرؑ کا ہے کہ ان کے وجود کا بعض لوگوں کی طرف سے انکار کیا جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں اس میں بھی اسلام کا معجزہ ہے کہ اگر کسی شخص کے وجود کا انکار نہیں ہوا تو وہ صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ورنہ بعض عیسائی ایسے ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ محض ایک تمثیلی ذکر ہے۔اسی طرح پروفیسر فرائیڈ جو خود یہودی ہے اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وجود کا انکار کیا ہے(The Life and Work of Sigmund Freud;p31)۔بعض ہندو ایسے ہیں جو یوروپین مشککین کی اتباع میں کرشنؑ اور رامچندرؑ کے وجود کا انکار کرتے ہیں اور بعض پارسی ہیں جو زرتشتؑ کے وجود کا انکار کرتے ہیں اور اس کو محض ایک تمثیلی وجود قرار دیتے ہیں لیکن اگر کسی عظیم الشان نبی کے وجود کا انکار نہیں کیا گیا تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات ہے۔میرے نزدیک اس میں بھی ایک بہت بڑی الٰہی حکمت کام کررہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس ذریعہ سے دنیا کو بتایا ہے کہ اگر کوئی قابل اعتناء ذات ہے تو وہ صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے باقی سب انبیاء کا اگر تم انکار بھی کردو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔غرض طور کے وجود کا بھی بعض لوگوں نے انکار کیا ہے اور سینا کے وجود کا بھی بعض لوگوں نے انکار کیا ہے لیکن جو لوگ طور کو مانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ سینا کے نیچے جنوب میں خلیج عقبہ کے اوپر تیس چالیس میل لمبا ایک پہاڑ ہے جس