تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 235
معارف کو دنیا میں قائم کرنے کا ایک ذریعہ ہو گا۔اور جہالت اور معصیت کی تاریکیوں کو دور کر دے گا۔ان دونوں معنوں میں جو اوپر بیان کئے جا چکے ہیں ترتیب طبعی پائی جاتی ہے۔ایک میں درجہ کے لحاظ سے اور ایک میں زمانہ کے لحاظ سے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ۔ان مثالوں سے پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نہایت معتدل القویٰ بنایا ہے۔کیونکہ جب بھی خدا تعالیٰ کے نبی آئے آخر دنیا ان کو مان گئی۔اور وہ پہلے معنی جو مفسرین نے بائبل کی اس پیش گوئی کو مد نظر رکھتے ہوئے کئے ہیں کہ ’’خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا‘‘ ( استثناء باب ۳۳ آیت ۲) اور یہ سمجھ لو کہ یہی پیش گوئی اس جگہ بیان کی گئی ہے۔تو اس لحاظ سے لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ کے یہ معنے ہوں گے کہ ان میں سے جس نبی کو بھی دیکھ لو تمہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ آخر وہی فتح یاب ہوا۔بےشک دنیا نے ان کی مخالفت کی۔ان کو مٹانے کے لئے اس نے مختلف قسم کی تدابیر اختیار کیں مگر آخر ان کی تعلیم کو ماننے پر مجبور ہو گئی۔اس سے یہ نتیجہ نکل آیا کہ ہم نے انسان کو نہایت اعلیٰ درجہ کی تقویم میں پیدا کیا ہے۔موسٰی آئے تو ہم نے انہیں فتح دی۔عیسٰیؑ آئے تو ہم نے انہیں فتح دی۔اب تم محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتے مگر ایک دن تمہیں اس کی تعلیم کے سامنے اپنے سر کو جھکانا پڑے گا اور اس طرح ثابت ہو جائے گا کہ ہم نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے۔وَ التِّيْنِ وَ الزَّيْتُوْنِ کی نئی تفسیر غرض حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کے معنے بھی بڑے لطیف ہیں اور پرانے مفسرین کے بعض معنے بھی بہت اچھے ہیں مگر میں نے اس سورۃ پر مزید غور کیا کہ کیا ایسے لطیف اور واضح معنوں کے ہوتے ہوئے پھر کوئی اور معنے بھی ہوسکتے ہیں یا نہیں؟ جب میں نے غور کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان آیات کا ایک نیا علم بخشا۔اس کے لحاظ سے یہاں نہ دو زمانوں کا ذکر ہے نہ تین کا بلکہ چار زمانوں کی خبر دی گئی ہے اور اس طرح ایک نہایت ہی لطیف مضمون بیان کیا گیا ہے جو لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ کے ساتھ گہرے طور پر تعلق رکھتا ہے۔بے شک اگر ہم موسٰی کی مثال لے لیں یا عیسیٰؑ کی مثال لے لیں یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال لے لیں تب بھی یہ آیت اپنے معانی کے لحاظ سے پوری طرح چسپاں ہوجاتی ہے مگر اس صورت میں انسان کو احسنِ تقویم میں پیدا کرنے کی مثال زمانہ کے صرف ایک جزو کے ساتھ تعلق رکھے گی۔کامل مثال تب ثابت ہوتی ہے جب ساری دنیا پر مجموعی لحاظ سے نظر ڈالنے کے بعد یہ نتیجہ پیدا ہو کہ انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیاگیا ہے اگر ساری دنیا پر مجموعی نظر ڈالنے کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچیں کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ تو اس صورت میں یقیناً یہ پہلے سے زیادہ زبردست دلیل بن جائے گی اور قرآن کریم کے حسن اور اس کی شان کو دوبالا کردے گی۔