تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 236
آنحضرت صلعم کی فتح کے یقینی ہونے کی پہلی دلیل غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ اس سورۃ سے پہلے کی چند سورتوں میں ہجرت کا ذکر چلا آتا ہے۔چنانچہ پہلے تو یہ بتایا گیا ہے کہ تمہیں ہجرت کرنی پڑے گی پھر یہ بتایا گیا ہے کہ ہجرت کس طرح ہوگی اور پھر یہ بتایا گیا ہے کہ ہجرت کے بعد تمہیں کس طرح غلبہ حاصل ہوگا۔کفار کیونکر مغلوب ہوں گے اور اسلام کو کس طرح شوکت اور عظمت حاصل ہوگی۔یہ مضمون سورئہ فجر سے شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد کی ہر سورۃ میں اشارۃً یا وضاحتاً کسی نہ کسی رنگ میں ہجرت کا ذکر چلا آتا ہے۔ہجرت کا پہلا اثر انسان کی طبیعت پر یہ ہوتا ہے کہ ہار گئے، بھاگ گئے، شکست کھاگئے۔جب بھی ہجرت کا ذکر کیا جائے گا۔دشمن تالیاں پیٹنے لگ جائے گا کہ لو اب بھاگنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ آج تو ہم یہاں سے جارہے ہیں مگر کچھ عرصہ کے بعد پھر فتح حاصل کرکے واپس آئیں گے۔تب بھی دشمن حقارت کی ہنسی ہنستا ہے اور کہتا ہے فتح کو تو میں نہیں مانتا مگر اتنا تو تم بھی تسلیم کرتے ہو کہ اس وقت تم میرے مقابلہ سے بھاگ رہے ہو۔غرض ہجرت پر شیطان کو ایک خوشی حاصل ہوتی ہے۔کیونکہ بظاہر شیطان جیت جاتا ہے اور نبی ہارجاتا ہے گویا شیطان کی فتح کی ایک ظاہری علامت قائم ہوجاتی ہے اور کمزور دل لوگ ڈر جاتے ہیں کہ کیا اس کے نتیجہ میں اب یہ سلسلہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا مدعی ہے تباہ تو نہ ہوجائے گا۔اس کا بانی تو کہتا تھا کہ ہم جیت جائیں گے اور دشمن ہارجائے گا۔مگر ہوا یہ کہ خود ہی دشمن سے ڈر کر بھاگ رہا ہے۔پس چونکہ ہجرت پر شیطان کو ایک ظاہری فتح حاصل ہوتی ہے اور کمزور ایمان والوں کے قدم ڈگمگاجاتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں ہجرت کی چار مثالیں بیان فرمائی ہیں اور بتایا ہے کہ اس سے پہلے شیطان نے تین دفعہ بظاہر خدا تعالیٰ کے نبیوں کو شکست دی تھی اور ان کو دق کرکے ان کے وطن سے نکال دیا تھا مگر آخر نتیجہ کیا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے ان کی پردہ پوشی فرمائی اور ان کی شکست کو فتح میں بدل دیا۔اب بھی ایسا ہی ہوگا۔تم ہمارے رسول کو اس قدر تکالیف پہنچائو گے کہ آخر وہ مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوجائے گا اور تم خوش ہو گے کہ تم نے اسے شکست دے دی اور اسے اپنے شہرمیں سے نکال دیا۔مگر یا درکھو آخر تم کو ہی ذلیل ہونا پڑے گا۔چنانچہ ہم تمہارے سامنے تین مثالیں پیش کرتے ہیں۔تینوں دفعہ شیطان نے خدا تعالیٰ کے نبیوں کو نکالا مگر تینوں دفعہ شیطان نے منہ کی کھائی اور ان انبیاء کا اپنے وطن سے نکلنا ہی دشمن کی تباہی کا موجب بن گیا۔شیطان کا حضرت آدم علیہ السلام کو دھوکہ دینا پہلی مثال آدمؑ کی ہے۔آدم کو بظاہر شیطان سے شکست ہوئی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک درخت کے پاس جانے سے انہیں منع کیا تھا جس کے پاس وہ شیطان کے بہکانے کے نتیجہ میں چلے گئے اور انہیں کئی قسم کی تکالیف میں مبتلا ہوناپڑا۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم