تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 234

یہ عام قاعدہ ہے کہ کبھی حذف مضاف کر کے صرف مضاف الیہ بیان کر دیتے ہیں۔تو کوئی وجہ نہیں کہ قرآن کریم اس محاورہ کو استعمال نہ فرمائے۔باقی رہا یہ سوال کہ اس جگہ قرینہ قویہ کون سا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ قرینہ اگلے دو الفاظ ہیں یعنی طور اور بلدالامین۔قرآن کریم سے ثابت ہے کہ طور ایک مقام ہے جو ایک نبی کی وجہ سے معزز ہوا اور مکہ بھی ایک مقام ہے جو ایک نبی کی وجہ سے معزز ہوا۔پس جبکہ تین اور زیتون کے معطوف دو مقام ہیں جو ایک ایک نبی کی وجہ سے معزز ہوئے تو عقل ضرور اس امر کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ تین و زیتون میں بھی کسی مقام کا نام ہو گا۔یا کسی نہ کسی نبی سے تعلق رکھنے والی چیز ہو گی جس کی وجہ سے اسے طور اور مکہ کی طرح خدا تعالیٰ کی قدرت اور شوکت کے ثبوت میں پیش کیا جا سکے۔اسی طرح ابن کثیر والوں نے جو اس سوال کا جواب دیا ہے کہ ترتیب قرآنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پہلے کیوں بیان کیا گیا ہے وہ ایک نہایت لطیف جواب ہے اور ان کی نگاہ کی باریکی کی قدر کرنی پڑتی ہے۔مولوی محمد علی صاحب نے جو معنے کئے ہیں ان کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ وہ درحقیقت حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کے معنے ہیں جو انہوں نے چرا کر اپنی طرف منسوب کر لئے ہیں لیکن بہر حال اس سے انکار نہیںکیاجاسکتا کہ حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کے معنے نہایت لطیف ہیں کہ ایک قوم کو تین سے مشابہت دی گئی ہے اور دوسری کو زیتون سے اور بتایا گیا ہے کہ ایک وقت ہم نے تین کا نسخہ تجویز کیا تھا اور دوسرے وقت میں زیتون کا کیونکہ ہم کامل طبیب ہیں اور جیسی جیسی بیماری ہوتی ہے ویسا ہی اس کا علاج کرتے ہیں۔بلکہ میں کہتا ہوں کہ اس سے زیادہ اس جگہ یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ تین مزے میں تو اچھی ہوتی ہے مگر وہ جلدی سڑ جاتی ہے اس کے مقابل میں زیتون علاوہ اس کے کہ پھل کا کام دیتا ہے اس کا روغن کثرت کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے اور اچار میں بھی ڈالاجاتا ہے جو اس کو دیر تک قائم رکھتا ہے۔گویا تین تو اپنی ذات میں بھی قائم نہیں رہ سکتی اور زیتون کے ساتھ دوسری چیزیں بھی قائم رکھی جاتی ہیں اور ان دو مثالوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ موسوی تعلیم انجیر کی طرح سڑ جانے والی تھی۔اب ہم تمہیں وہ تعلیم دیں گے جو نہ صرف سڑنے اور خراب ہونے سے محفوظ رہے گی بلکہ انسانی ذہنوں میں ایک ایسا نور پیدا کر دے گی کہ اس کے ذریعہ سے نئے سے نئے معارف اور نئے سے نئے علوم انہیں اس کتاب سے حاصل ہوتے رہیں گے۔جیسے سورۂ نور میں زیتون کے تیل کی تعریف کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ (النّور:۳۶)۔یہ تیل ایسا اعلیٰ درجہ کا ہے کہ خواہ آگ اس کے قریب نہ لائی جائے تب بھی وہ خودبخود بھڑک اٹھتا ہے۔ایسی اعلیٰ درجہ کی چیز کے ساتھ الٰہی کلام کو مشابہہ قرار دینے کے معنےیہی ہیں کہ وہ کلام جو اب دنیا میں نازل کیا جائے گا نئے سے نئے علوم اور