تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 207
وہ قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام سے کہا کہ میں نے سنا ہے آپ کہتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں حضرت مسیح َموعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہاں یہ درست ہے۔وہ بولے میں نے تو سمجھا تھا لوگ یونہی غلط باتیں مشہور کر رہے ہیں اور آپ کہتے ہیں یہ درست ہے۔اچھا بتائیے جب قرآن میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو آپ خلافِ قرآن ایسا دعویٰ کیوںکر رہے ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا میاں نظام الدین صاحب! میں تو قرآن کی ہر بات مانتا ہوں اگر قرآن سے حیاتِ مسیح ثابت ہو جائے تو میں آج ہی اپنی بات چھوڑنے کے لئے تیار ہوں۔وہ کہنے لگے بس یہی میں کہتا تھا کہ مرزا صاحب قرآن کے خلاف نہیں جا سکتے ضرور اُنہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے اگر اُن پر یہ حقیقت روشن کر دی جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو وہ اپنی بات کو بالکل چھوڑ دیں گے اچھا اب اس بات پر مضبوط رہیے اگر میں سو آیات ایسی لے آیا جن سے حیاتِ مسیح ثابت ہوتی ہو تو کیا آپ اپنا دعویٰ چھوڑ دیں گے؟حضرت مسیح موعودعلیہ ا لسلام نے فرمایا سو آیات کا کیا ذکر ہے ہم تو قرآن کا ایک ایک لفظ مانتے ہیں اگر آپ ایک آیت بھی لے آئیں تو میں اپنا دعویٰ چھوڑنے کے لئے تیار ہوں۔اس پر وہ کہنے لگے اچھا اگر سو آیات نہ ہوئیں اور صرف چالیس پچاس آیتیں ہوئیں تب بھی آپ اپنا دعویٰ چھوڑ دیں گے؟حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے فرمایا میں تو کہہ چکا ہوں کہ آپ ایک آیت ہی لے آئیں پچاس آیات کے لانے کی کیا ضرورت ہے۔کہنے لگے اچھا دس آیات تو میں ضرور لے آئوں گا۔یہ کہہ کر وہ قادیان سے چلے اور سیدھے لاہور پہنچے۔لاہور میں اُن دنوں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ جموں سے چھٹی پر آئے ہوئے تھے اور مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی سے مباحثہ کے لئے شرائط کا تصفیہ کر رہے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو فخر کی بہت عادت تھی انہوں نے اشتہار شائع کیاہوا تھا کہ مرزا صاحب تو میرے مقابلہ میں نہیں نکلتے اب نورالدین آیا ہوا ہے میں دیکھوں گا کہ وہ میرے پنجہ سے کس طرح نکلتا ہے۔بہت دنوں تک شرائط کا تصفیہ ہوتا رہا مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔حضرت خلیفہ اوّل ؓ فرماتے تھے کہ ہمارے تمام جھگڑوں کے لئے قرآن حَکم ہے۔ہمیں اس سے فیصلہ کرنا چاہیے۔مگر مولوی محمد حسین صاحب کہتے تھے کہ حدیثیں بھی ضرور شامل کرنی چاہئیں۔آخر کئی دن کی بحث کے بعد حضرت خلیفہ اولؓ نے مان لیا کہ اچھا قرآن کے علاوہ بخاری کو بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔جب حضرت خلیفہ اوّلؓ نے یہ آخری جواب دیا تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی چینیاں والی مسجد میں بیٹھے بڑے زور سے لاف زنی کررہے تھے کہ نورالدین نے یوں کہا اور میں نے اس کی دلیل کو یوں توڑا۔اس نے اِس طرح کیا اور میں نے اسے اس طرح رگیدا اور آخر میں نے منوالیا کہ قرآن کے علاوہ اس موضوع کے لئے بخاری بھی پیش کی جاسکتی ہے۔ابھی وہ