تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 201

دوسری اقوام کی اصلاح کرو۔غرض اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، چلنا پھرنا ہر اک امر کو اسلام ایک نظام کے ماتحت لاتاتھا اور اس طرح کوئی حصہ ایسا نہ تھا جس میں غیرمسلم عربوں اور قرآنی تعلیم کے درمیان اتحاد ہوسکتا۔قرآن کریم ان کے خیالات میں بھی دخل دیتاتھا، ان کے اخلاق میں بھی دخل دیتا تھا، ان کے عقائد میں بھی دخل دیتا تھا، ان کی سیاسیات میں بھی دخل دیتا تھا۔ان کی اقتصادیات میں بھی دخل دیتا تھا۔غرض کوئی معاملہ ایسانہ تھا جس میں اسلام دخل اندازی نہ کرتا ہو۔اتنی لمبی اور تفصیلی باتیں منوانے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنی بڑی مشکلات پیش آسکتی تھیں مگر یہ الٰہی فعل ہی تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی کو اطلاع دیتے ہیں کہ مجھ پر یوں وحی ہوئی ہے۔توبیوی یہ نہیں کہتی کہ یہ کیا پاکھنڈ بنانے لگے ہو بلکہ وہ کہتی ہے کَلَّا وَاللہِ مَا یُـخْزِیْکَ اللہُ اَبَدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِـمَ وَتَـحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْـحَقِّ۔آپ گھبرائیں نہیں آپ نے جو کچھ دیکھا ٹھیک دیکھا۔اللہ تعالیٰ آپ کو ضائع نہ کرسکتا تھا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں۔نادار کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔گم شدہ نیکیوں کو قائم کرتے ہیں۔مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی مدد کرتے ہیں۔پھر بیوی آپ کو اپنے بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے جاتی ہے جو اسرائیلی علوم کے عالم تھے تو وہ سنتے ہی فرماتے ہیں کہ یہ ویسی ہی وحی ہے جیسے موسیٰ پر نازل ہوئی تھی (صحیح بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی) اور ویسے ہی احکام اور فرامین اس وحی میں پائے جاتے ہیں جیسے موسیٰ کی وحی میں پائے جاتے تھے۔گھر میں ایک چچیرا بھائی جو جوانی کی عمر کو پہنچنے والا ہے اور نوجوانوں میں تبلیغ کا اچھا ذریعہ بن سکتا ہے جب وہ اپنے بھائی اور بھاوج کو نہایت سنجیدگی سے ایک اہم تغیر کی نسبت باتیں کرتے ہوئے سنتا ہے تو بڑی متانت سے آگے بڑھ کر کہتا ہے کہ میں بھی یقین رکھتا ہوں کہ آپ سچے ہیں اور ضرور خدا تعالیٰ نے آپ سے یہ باتیں کی ہیں اور آپ کو دنیا کی اصلاح کے لئے مامور کیا ہے۔ایک آزاد کردہ غلام جو آپ کے اخلاق کا شکار ہوکر ماں باپ کو چھوڑ کر آپ کے دروازہ پر بیٹھ گیا تھا۔جب ان آہستہ آہستہ ہونے والی باتوں کو سنتا ہے اور اپنے آقا کے چہرہ پر فکر و اندیشہ کے آثار دیکھتا ہے تو آگے بڑھ کر اپنے آقا کے دامن کو تھام لیتا ہے اور کہتا ہے میرے آقا وہی ہوگا جو آپ نے دیکھا۔آپ جیسے انسان سے قدرت دھوکا بازی نہیں کرسکتی۔اب وہ وقت آگیا ہے کہ آپ کے ہاتھوں دنیا کی اصلاح ہو۔مجھے بھی اپنے ساتھ رہنے اور خدمت کرنے کی اجازت دیجئے۔ایک ہی گہرا دوست جو گویا ایک ہی صدف میں پلنے والا دوسرا موتی تھا جب سنتا ہے کہ اس کے دوست نے بے پر کی اڑانی شروع کردی ہے اور شاید اس کے دماغ میں خلل آگیا ہے تو بھاگا ہوا جاتا ہے اور دروازہ کھلوا کر پوچھتا ہے کہ کیا جو کچھ سنتا ہوں سچ ہے؟ جب آپ اس کے سامنے تشریح کرنے لگتے ہیں تو کہتا