تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 187

گزر جائے اور علوم کا بہت سا حصہ نامکمل رہے۔یہی وجہ ہے کہ آج تک کبھی کسی شخص نے بیان کامل نہیں کیا جو کچھ بیان کیا جاتا ہے ایک بیج کے طور پر ہوتا ہے جس سے ہر شخص اپنی اپنی استعداد اور اپنی اپنی قابلیت کے مطابق فائدہ اٹھاتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کا کلام جب آسمان سے نازل ہوتا ہے کسی کے لئے وہ کلام اتنا ہی مفہوم رکھتا ہے جتنے اس کے الفاظ ہوتے ہیں۔کسی کو آدھے الفاط کی حقیقت معلوم ہوتی ہے،کسی کو چوتھے حصہ کی حقیقت معلوم ہوتی ہے اور کسی شخص کے لئے وہ کلام ایسی ہی حیثیت رکھتاہے جیسے درخت کا بیج یا گٹھلی ہوتی ہے کہ اس میں سے شاخ در شاخ علوم نکلتے چلے آتے ہیں اور نئی سے نئی باتیں اس پر منکشف ہوتی جاتی ہیں۔یہی وہ چیز ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ کیا ہم نے تیرا سینہ وسیع نہیں کردیا۔یعنی اس چیز کے لئے تیرا سینہ بمنزلہ زرخیز زمین ہوگیا تھا۔قرآن تو ایک گٹھلی تھی مگر تیرے سینہ میں وہ ایک درخت کی صورت میں ظاہر ہوا۔اگر سینہ بھی گٹھلی کے برابرا ہوتا تو قرآن کے صرف الفاظ ہی الفاظ تیرے پاس رہ جاتے۔مگر چونکہ خدا نے تجھ کو ایک بہت بڑے کام کے لئے مقرر کیا تھا اور تجھے اس غرض کے لئے دنیا میں بھیجا گیا تھا کہ تو قرآن کی تفسیر کرے، اس کے احکام کی تشریح و توضیح کرے اور اس کے معارف و حقائق دنیا کے سامنے پیش کرے۔اس لئے تیرے سینہ میں اس کے متعلق گنجائش ہونی چاہیے تھی تاکہ یہ علم جو ہم نے تجھے بخشا ہے روز بروز بڑھتا رہے۔نئی نئی باتیں اس میں سے نکلتی رہیں اور نئے نئے نکات لوگوں کے سامنے آتے رہیں۔پس فرماتا ہے اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا تو اس بات کا گواہ نہیں کہ ہم نے تیرے اندر یہ مادہ پیدا کیا ہے کہ جب تجھ پر ایک آیت نازل ہوتی ہے تو اس کے تمام مَالَہٗ اور مَاعَلَیْہِ تیرے سامنے آجاتے ہیں جو حکم بھی نازل ہوتا ہے اس کی باریکیاں اور وسعتیں سب تیرے ذہن میں مستحضر ہوجاتی ہیں اور تو فوراً سمجھ جاتا ہے کہ کن مواقع پر یہ حکم چسپاں ہوتا ہے اور کن مواقع پر چسپاں نہیں ہوتا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے علم خارجی کے علاوہ علم اندرونی بھی بخشا تھا اور اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ کے معنے یہی ہیں کہ کیا علاوہ قرآن شریف کے ہم نے تجھے علم اندرونی نہیں بخشا اور تیرے سینہ کو کھول نہیں دیا؟ میں بتاچکا ہوںکہ علم خارجی سب شاگردوں کو ایک قسم کا ملتا ہے مگر علم اندرونی ہرطالب علم کا الگ الگ ہوتا ہے اور اپنی الگ الگ استعدادوں کے مطابق وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اسلام کی وسیع تعلیم کے لئے اس قدر وسیع سینہ کی ضرورت تھی جو ہر قسم کے علم کو سمجھ سکے، سمجھاسکے اور دنیا میں پھیلاسکے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو علم ملا چونکہ وہ جامع و مانع تھا اس کے لئے بہرحال ایسے سینہ کی ضرورت تھی جو ہر علم کو اخذ کرلے اور اسے پھیلا کر کہیں