تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 178
جب اس خیال کے نتیجہ میں اسے اپنی موت بالکل سامنے نظر آئی تو وہ بے اختیار کہنے لگی ؎ ملک الموت من نہ میستی ام گر ترا میستی است اندر کار من یکے پیر زال محنتی ام اینک او را ببر مرا بگذار ملک الموت میں میستی نہیں میں تو ایک بڑھیا مزدور عورت ہوں میستی تو وہ اندر لیٹی ہوئی ہے تو نے اگر جان نکالنی ہے تو اس کی نکال لے۔اب دیکھو وہ اپنے دل میں روزانہ یہ سمجھتی تھی کہ میں میستی کے لئے جان دے سکتی ہوں مگر وہ یقین ا س حد تک نہیں تھا کہ موت کے سامنے آنے پر بھی قائم رہتا۔جب اسے اپنی موت سامنے نظر آئی وہ اپنے تمام دعاوی محبت کو بھول گئی اور لڑکی کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگی کہ میستی تو وہ ہے اس کی جان نکال لے۔تو بسا اوقات انسان سمجھتا ہے کہ مجھے یقین حاصل ہے مگر دراصل اُسے غیرمتزلزل یقین حاصل نہیں ہوتا اور جس چیز کو وہ یقین قرار دے رہا ہوتا ہے وہ اس کے نفس کا دھوکا ہوتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے شک یقین حاصل تھا مگر آپ کو کس طرح پتہ لگ سکتا تھا کہ میرا یقین اب کسی بڑی سے بڑی مشکل کے آنے پر بھی بدل نہیں سکتا۔اسی وقت آپ کو اس حقیقت کا علم ہوسکتا تھا۔جب امر غیب کو امر ظاہر بنادیا جاتا اور اللہ تعالیٰ کی متواتر تجلیات آپ کو اس مقام پر کھڑا کردیتیں جس کے بعد کسی تزلزل یا کسی جنبش قدم کا امکان بھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔پس چونکہ وراء الادراک امورپر یقین کامل تجلی کے بغیر نہیں ہوسکتااس لئے یہ آیت قطعی طور پر اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی متواتر تجلیات آپ پر ہوچکی تھیں اور آپ ایسے یقینی شواہد حاصل کرچکے تھے کہ جن کی بناء پر آپ سمجھتے تھے کہ جس طرح میں نے سورج کو دیکھا ہے، میں نے چاند کو دیکھا ہے، میں نے زمین اورآسمان کو دیکھا ہے اسی طرح میں نے اپنے رب کی متواتر تجلیات کو مشاہدہ کیاہے جس کے بعد یہ ممکن ہی نہیں کہ میرے دل سے اس یقین کونکالاجاسکے۔پس اس آیت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس وقت تک آپ پر متواتر تجلیات ہوچکی تھیں ورنہ خدا تعالیٰ یہ کس طرح کہہ سکتا تھا کہ ہم نے تیرا سینہ کھول دیا ہے اور اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود تو بھی جانتا ہے کہ تیرا شرح صدر ہوچکا ہے۔پس یہ آیت صرف اس مضمون کی حامل نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شرح صد ر ہوا بلکہ ایک زائد بات اس میں یہ بھی پائی جاتی ہے کہ آپ پر امر نبوت تجلیات الٰہیہ کے ذریعہ اتنا واضح ہوچکا تھا کہ آپ یہ کہنے کے لئے بھی تیار تھے کہ بےشک میں مانتا ہوں کہ مشکلات آئیں گی مگر میں مٹ نہیں سکتا۔مشکلات میرے پائے ثبات کو جنبش میں نہیں لاسکتیں۔چنانچہ آنے والے واقعات نے اس بات کو ثابت کردیا کہ آپ میں اس قسم کا یقین تھا اور الٰہی تجلیات نے آپ کو