تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 177

کرتے ہیں کہ رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ (طٰہٰ:۲۶) اے میرے رب میرا سینہ کھول دے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ خدایا مجھے وہ یقین حاصل ہوجائے جس کے بعد میں یہ سمجھوں کہ اگریہ کام نہ ہوا تومیرا قصورہے لیکن اس کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے یہ چیز تجھے دے دی ہے اور نہ صرف تجھے دے دی ہے بلکہ تو بھی جانتا ہے کہ ہم یہ چیز تجھے دے چکے ہیں۔یعنی ایسے رنگ میں یہ چیز تجھے دی ہے کہ تجھ پر بھی یہ حقیقت پوری طرح منکشف ہوچکی ہے۔کیونکہ انکارِ ابطالی اسی وقت استعمال ہوتا ہے جب مخاطب اس امر سے پوری طرح واقف ہوتا ہے۔ورنہ بعض کمالات انسان میں موجود ہوتے ہیں مگر وہ ان سے واقف نہیں ہوتا۔یہ صاف بات ہے کہ وراءالادراک امور پر یقین کامل بغیر تجلی کے نہیں ہوسکتا۔اگر کوئی مادی چیز ہو اور وہ کسی انسان کو مل جائے مثلاً روٹی مل جائے یا روپیہ مل جائے تو اس پر یقین لانے کے لئے کسی تجلی کی ضرورت نہیں ہوتی۔انسان جانتا ہے کہ فلاں چیز مجھے مل گئی ہے لیکن یہاں جس چیز کے ملنے کا ذکر کیا جارہا ہے وہ مادی نہیں بلکہ روحانی ہے اور روحانی چیز پریقین اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتا جب تک اللہ تعالیٰ کی متواتر تجلیات انسان کو حق الیقین کے مقام پر لاکر کھڑا نہ کردیں۔درحقیقت یقین کے مختلف مدارج ہوتے ہیں۔کبھی یقین کسی مادی چیز کے متعلق ہوتاہے اور کبھی روحانی چیز کے متعلق کبھی غیر معمولی طور پرمضبو ط یقین انسان کو حاصل ہوتا ہے اور کبھی یقین تو ہوتا ہے مگر ذرا سی بات پر انسان شکوک و شبہات میں مبتلا ہوجاتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے مجھے یقین ہے مگر یہ نہیں سمجھتا کہ اس کا یقین غیر متزلزل یقین نہیں۔قصہ مشہور ہے کہ ایک لڑکی جس کا نام میستی تھا وہ ایک دفعہ شدید بیماری ہوئی اور اس کی بیماری روز بروز تشویش ناک صورت اختیار کرتی چلی گئی۔اس کی والدہ روزانہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کرتی تھی کہ الٰہی اگر ملک الموت نے روح قبض ہی کرنی ہے تو میری روح قبض کرلے میری لڑکی کو کچھ نہ کہے۔اتفاقاً ایک رات اس کی گائے کھلی رہ گئی۔اس نے صحن میں اِدھر اُدھر پھر کر برتنوں میں منہ ڈالنا شروع کردیا۔اسی دوران میں اسے ایک گھڑا نظر آیا جس میں چھان پڑا ہوا تھا اس نے گھڑے میں منہ ڈال دیا اورجب اس نے دو چار لقمے لینے کے بعد اپنے سر کوباہر نکالنا چاہا تو وہ باہر نہ نکال سکی اس کا سر گھڑے میں پھنس کر رہ گیا۔اس پر وہ گھبراکر صحن میں اِدھر اُدھر دوڑنے لگی۔لڑکی کی ماں نے شور سنا تو وہ بھی جاگ اٹھی مگر سمجھ نہ سکی کہ یہ چیزکیا ہے۔اس نے خیال کیا کہ ہو نہ ہو یہ ملک الموت ہے جو میری روح قبض کرنے کے لئے آیا ہے کیونکہ میں روزانہ یہ دعا کیا کرتی ہوں کہ یا اللہ میں مرجائوں اور میستی بچ جائے۔