تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 179
ایسے مقام پر کھڑا کردیا تھا کہ کوئی چیز آپ کو ہلا نہ سکی۔چنانچہ میں اس کے ثبوت میں سات مثالیں پیش کرتا ہوں۔آنحضرتؐکے دل میں حق الیقین پیدا ہونے کی سات مثالیں (۱)پہلی مثال ابوطالب کا واقعہ ہے۔مکہ کے بڑے بڑے رئوساء ان کے پاس آئے اور انہوں نے کہا ہم اس غرض کے لئے آئے ہیں کہ آپ اپنے بھتیجے کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچادیں کہ اگر وہ دولت کا خواہش مند ہے تو ہم اس کو اتنی دولت دینے کے لئے تیار ہیں کہ وہ ہم سب میں سے زیادہ امیر ہوجائے۔اگر وہ حسین بیوی کا شائق ہے تو ہم عرب کی سب سے زیادہ حسین لڑکی کے ساتھ اس کی شادی کرنے کے لئے تیار ہیں اور اگر وہ حکومت اور ریاست کا شوق رکھتا ہے تو ہم اسے اپنابادشاہ ماننے کے لئے تیار ہیں۔غرض اس کی ہر خواہش اورمطالبہ کو ماننے کے لئے ہم تیار ہیں۔وہ صرف اتنی بات مان لے کہ ہمارے بتوں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دے۔اب اگرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یقین میں ذرا بھی تذبذب ہوتا یا لالچ کا کوئی ایک محرک بھی آپ کے قلب میں پایا جاتا تو آپ اس پیغام پر خوش ہوتے اورکہتے چلو اچھا ہوا مقصد حاصل ہوگیا۔مجھے دولت چاہیے تھی سو اس ذریعہ سے دولت آرہی ہے۔مجھے بیوی چاہیے تھی سو اس ذریعہ سے حسین ترین لڑکی مل رہی ہے۔مجھے قوم کی سرداری چاہیے تھی سو وہ بھی حاصل ہورہی ہے۔اگر میں بتوں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دوں تو اس میں میرا کیا حرج ہے۔مگر آپ یہ جواب نہیں دیتے کہ بہت اچھا میں تمہارے مطالبہ کومان لیتا ہوں تم مجھے دولت دے دو۔مجھے ریاست دے دو۔مجھے حسین ترین لڑکی دے دو میں بتوں کو برا بھلا کہنا ترک کردیتا ہوں۔بلکہ آپ اپنے چچا کو یہ جواب دیتے ہیں کہ اے میرے چچا! اگر میری قوم سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لاکر کھڑا کردے تب بھی میں اپنے عقائد پر قائم رہوں گا اور ایک شوشہ بھر بھی اِدھر اُدھر نہیں ہوں گا۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام :مباداۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قومہ وما کان منہم )دیکھو یہ اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ کی صداقت کاکتنا بڑا ثبوت ہے کہ آپ کو بڑے سے بڑا لالچ دیا گیا مگر آپ نے پرِپشہ کے برابر بھی اُن چیزوں کو کوئی وقعت نہ دی اور فرمایا کہ مجھے جس کام کے لئے خدا نے کھڑا کیا ہے وہ میں مرتے دم تک کرتا چلا جائوں گا اور میں اس سے نہیں ہٹوں گا خواہ مکہ والے سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لاکر کھڑا کردیں۔(۲) ہجرت کے وقت گھر سے نکلنے کا واقعہ بھی اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ کی صداقت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم ہوچکا تھا کہ باہر کفار کھڑے ہیں۔آپ کو یہ علم ہوچکا تھا کہ وہ قتل کے ارادہ سے آئے ہیں مگر چونکہ خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ یہ کفار خواہ تیر ی ہلاکت کے کتنے بڑے منصوبے کریں وہ تجھے قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ذرا بھی گھبراہٹ پیدا نہ ہوئی۔آپ