تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 173

بائیں لاکھڑا کردیں تب بھی خدائے واحد کی توحید کے اقرار سے نہیں رکوں گا۔اور اس سچ کے اظہار سے باز نہیںآئوں گا۔( السیرۃ النبویۃ لابن ہشام :مباداۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قومہ وما کان منہم) یہ اعلان کیا بغیر ایک ایسے یقین کے ہوسکتا ہے جو پہاڑوں سے زیادہ مضبوط ہو۔اسی طرح جب آپؐغار ثور میں گھِر گئے، کفار نے آپ کا محاصرہ کر لیا اور بعض نے اندر گھس کر آپ کا پتہ لینا چاہا اور حضرت ابوبکرؓ کو اس بات کی فکر ہوئی کہ کہیں دشمن آپ کو پکڑ نہ لے تو آپ نے فرمایا لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا غم مت کر یہ لوگ ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔خدا ہمارے ساتھ ہے۔(مجمع الزوائد باب الھجرۃ الی المدینۃ) جس وقت صرف دو غیر مسلح آدمی مسلح قوم کے نرغہ میں گھِرے ہوئے ہوں اس وقت اپنے صاف بچ کر نکل جانے اور کامیاب ہونے کا اعلان اس شخص کے سوا جو خدا تعالیٰ کی تائیدات کا عینی مشاہدہ کرچکا ہو کون کرسکتا ہے اور یہ وہ امور ہیں جو صرف مسلمان ہی نہیں بیان کرتے تھے بلکہ کفار مکہ بھی ان امور کی تصدیق کرتے تھے۔امین و صدوق کا خطاب انہوں نے خود آپ کو دیا تھا۔غار ثور کا واقعہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا، ابوطالب کے ساتھ آپ کی گفتگو ان کے اپنے آدمیوں کے سامنے ہوئی تھی اور ایسے ہی اور واقعات جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیکی آپ کے یقین اور آپ کے ایمان کا ثبوت ملتا تھا۔روزِ اوّل سے ان لوگوں کے مشاہدہ میں آتے رہے تھے اور وہ ان کا مشاہدہ کرتے رہے تھے۔پس اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ کہہ کر قرآن کریم کا مکہ والوں پر حجت کرنا بالکل درست اور مطابق حقیقت تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیکی میںجو مقام حاصل تھا۔خدا تعالیٰ پر جو یقین تھا۔خدا تعالیٰ کے نشانات پر جو ایمان تھا وہ اس بات کایقیناً ضامن تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاگل نہ تھے۔آپ غیر ذمہ دار شخص نہ تھے۔آپ ارادہ کرکے اس سے ہٹنے والے نہ تھے۔آپ کسی وقتی خیال کے مطابق کام نہیں کررہے تھے بلکہ کوئی زبردست نشان آپ نے دیکھا تھا جس نے آپ کے ایمان کو پہاڑوں سے زیادہ مضبوط کردیا تھا۔ایسے شخص کے جیتنے میں کسی کو کیا شبہ ہوسکتا تھا؟ یہ سوال تھا جس کا جواب آپ کے مخالفوں کے ذمہ تھا اور یقیناً اس سوال کا جواب دینے سے وہ گھبراتے بھی تھے اور کتراتے بھی تھے۔انسانی کامیابی کا مدار یاد رکھنا چاہیے کہ انسانی کامیابی کا پہلا مدار خود اس کے یقین پر ہوتا ہے۔کوئی انسان دنیا میں کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک اسے اپنے دعویٰ پر یقین نہ ہو۔بلکہ اگر روحانیات کو جانے دیں اور مادیات کو لے لیں تب بھی کوئی انسان کسی کام کے لئے سنجیدگی سے کوشش نہیں کرسکتا جب تک اسے اپنے نفس پر یقین نہ ہو۔جب کسی کو یقین حاصل ہوجائے تو چاہے وہ جھوٹا ہی کیوں نہ ہو وہ اُس کو پورا کرنے کے لئے سرتوڑ کوشش کرتا ہے۔بلکہ بعض دفعہ جب کسی امر کے متعلق عارضی یقین انسان کے دل میں پیدا ہوجائے تب بھی کوشش شروع کردیتا ہے اور