تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 174

بعض دفعہ تو عارضی یقین ہی نہیں عارضی شک بھی اگر انسان کے دل میں پیدا ہوجائے تو وہ کوشش شروع کردیتا ہے۔چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ عرب میں ایک نیم پاگل لڑکا تھا۔لڑکے اسے چھیڑتے اور تنگ کرتے رہتے۔جب وہ بہت ہی اکتاجاتا اور دیکھتا کہ یہ تو میرا پیچھا ہی نہیں چھوڑتے تو چونکہ وہ اپنے ہم عمروں کی فطرت کو خوب سمجھتا تھا جھوٹے طور پر کہہ دیتا کہ فلاں شخص کے ہاں آج دعوت ہے تم مجھے بے شک چھیڑتے رہو۔کھانا تو تمہارا ہی خراب ہوگا۔اہل عرب میں مہمان نوازی کا مادہ بہت زیادہ پایا جاتا تھا اور ان میں دستور تھا کہ عام طور پر بڑے بڑے رئوسا اونٹوں کو ذبح کرکے عام لوگوں کودعوت دے دیتے کہ آئو اور کھانا کھائو۔ان دعوتوں کا وہ طریق نہ تھا جو ہمارے ہاں ہے کہ مخصوص طور پر بعض لوگوں کو دعوت کے لئے نامزد کیا جاتا ہے بلکہ ان کی دعوتوں میں شمولیت کے متعلق کسی قسم کی شرط نہیں ہوتی تھی جو شخص بھی چاہتا شریک ہوجاتا۔جب کسی ایسی دعوت کی وہ ان لڑکوں کو خبر دے دیتا تو یہ سنتے ہی لڑکے اسے چھوڑ دیتے اور اس رئیس کے مکان کی طرف دوڑ پڑتے۔جب وہ اکیلا رہ جاتا تو اس کے دل میں شبہ پیدا ہوتا کہ شاید واقعہ میں اس کے ہاں دعوت ہو اگر ایسا ہی ہوا تو یہ بڑی بری بات ہوگی کہ میں نے لڑکوں سے مار بھی کھائی اور دعوت سے بھی محروم رہا۔چنانچہ اس خیال کے آنے پر دس پندرہ منٹ کے بعد وہ خود بھی اسی مکان کی طرف دوڑپڑتا۔راستہ میں لڑکے مایوس ہوکر واپس آرہے ہوتے تھے۔وہ اسے پکڑ لیتے اور خوب پیٹتے کہ تو نے ہمیں بڑا دھوکا دیا ہے۔یونہی جھوٹ موٹ کہہ دیا کہ فلاں رئیس کے ہاں دعوت ہے حالانکہ وہاں کوئی دعوت نہ تھی۔اس پر اُسے پھر شرارت سوجھتی اور کہتا کہ اس کا نام تومیں نے یونہی لے دیا تھا اصل بات یہ ہے کہ فلاںرئیس کے ہاں دعوت ہے۔اس دفعہ لڑکوں کو پھر یقین آجاتا اور وہ دوسرے رئیس کے مکان کی طرف دوڑ پڑتے۔جب لڑکے چلے جاتے تو بعد میں پھر اس کے دل میں خیال آتا کہ اگر اس کے ہاں واقعہ میں دعوت ہوئی تو میرے ساتھی تو دعوت کھاجائیں گے اور میں محروم رہ جائوں گا۔چنانچہ اس خیال کے ماتحت وہ بھی اس رئیس کے مکان کی طرف دوڑ پڑتا۔اتنے میں لڑکے غصہ سے بھرے ہوئے واپس آرہے ہوتے تھے وہ اسے پکڑ لیتے اور پیٹنا شروع کردیتے۔چنانچہ اسی واقعہ کی وجہ سے عربوں میں شدت ِ حرص کو بیان کرنے کے لئے ا س لڑکے کے نام پر مثال بیان کی جانے لگی۔اب دیکھو وہ لڑکا جھوٹ بولتا تھا مگر جھوٹ بتا کر بھی اس کے دل میں خیال پیدا ہوجاتا تھا کہ شاید یہ بات ٹھیک ہی ہو اور وہ خود بھی اسی طرف دوڑ پڑتا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر کوشش یقین کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔آگے جیسا جیسا یقین ہو انسانی کوشش اور جدوجہد بھی مختلف رنگ اختیار کرتی چلی جاتی ہے۔تھوڑا یقین ہو تو اس کے مطابق کوشش ہوگی اور زیادہ یقین ہو تو اس کے مطابق کوشش ہوگی۔