تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 172
ہیں۔دوسرے یہ اس بات کا ثبوت ہوتی ہیں کہ وہ شخص ضرور کوئی نیک تغیر دنیا میں پیدا کر کے چھوڑے گا۔نیک کاموں کی تعریف تو اکثر لوگ کرتے ہیںلیکن کتنے لوگ ہیں جو ہر عُسر اور یُسر کی حالت میں نیکی پر قائم رہتے ہیں؟ ایسے لوگ تو کم ملتے ہیں جو یہ کہیں کہ سچ بولنا ضروری نہیں۔لیکن ایسے لوگ بھی بہت کم ہیں جو سو فیصدی سچ بولیں۔دنیا کے اکثر لوگ امانت کی تعریف کرتے ہیں لیکن کتنے لوگ ہیں جن کو ان کی ساری قوم بلا شک و شبہ امین قرار دیتی ہو؟ آخر ایک امر کو اچھا سمجھ کر اور اچھا قرار دے کر کیوں عمل کے وقت کمزوری دکھائی جاتی ہے۔اسی وجہ سے کہ اس صداقت پر اس شخص کو پورا یقین نہیں ہوتا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانہ میں پہلے شخص تھے جنہوں نے جن صداقتوں کو مانا ان پر عمل کیا۔آپ نے صرف کہا ہی نہیں کہ سچ اچھا ہے بلکہ آپ نے سچ بولا بھی اور آپ نے صرف کہا ہی نہیں کہ امانت اچھی بات ہے بلکہ آپ نے امین بن کر دکھایا بھی۔حتیٰ کہ مکہ کے لوگ جو خالص مادی دماغ رکھتے تھے اور اخلاق کی قدر بہت کم جانتے تھے پکار اٹھے کہ یہ امین و صدوق شخص ہے۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام :حدیث بنیان الکعبۃ و حکم رسول اللہ) یہ گواہی معمولی گواہی نہیں سچ بولنا الگ امر ہے اور ساری قوم سے راستباز کا خطاب لے لینا اور امر ہے۔امانت پر ثابت قدم رہنا اور ہے اور امین کا خطاب ساری قوم سے لے لینا اور بات ہے۔ہر شخص کے قوم میں دشمن بھی ہوتے ہیں اور دوست بھی۔نام ایک شخص اسی وقت پیدا کرتا ہے جب اس کاکمال اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ دشمن بھی اس کے انکار کی جرأت نہیں پاتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا یہ مرتبہ پانا اس امر کا شاہد تھا کہ آپ کا سینہ نیکیوں کے لئے کھل گیا تھا اور جس کا سینہ نیکیوں کے لئے کھل گیا ہو اسے جھوٹ یا فریب کا الزام لگانا کتنا ظلم ہے اور ایسے آدمی سے اس کے دشمن ملک والوں کو کب تک دور رکھ سکتے تھے۔انشراح صدر کے معنے یقین کامل کے دوسرے معنے سینہ کھلنے کے یقین کامل کے کئے گئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنی صداقت پر جو یقین تھا وہ مخفی امر نہیں۔جب مکہ کے لوگوں نے حضرت ابوطالب آپ کے چچا کو ڈرایا کہ اگر محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)بتوں کے خلاف کہنے سے باز نہ آئیں گے تو وہ ان کے اور ان کے حامیوں کے مٹادینے کا فیصلہ کرلیں گے اور اگر وہ صرف بتوں کو برا کہنے سے باز آجائیں گے تو وہ اپنی قوم کی لیڈری، بادشاہت، اس کا مال، اس کی خوبصورت لڑکیاں جو کچھ بھی مانگیں قوم اسے حاضر کرنے کے لئے تیار ہوگی۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس شان سے جواب دیا کہ اے میرے چچا! آپ مجھے چھوڑ کر اپنی قوم کے ساتھ بے شک مل جائیں میں تو اس صداقت کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔اگر میری قوم سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے