تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 164
کے ماتحت پیدا ہوں۔جب یہ چار چیزیں کسی شخص کو حاصل ہوجائیں تو ابتداء ہی سے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ وہ شخص غالب آجائے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاروں باتیں تجھے حاصل ہیں اس صور ت میں تیرے مخالفین کو سمجھ لینا چاہیے کہ تیرے انجام کی بہتری کے متعلق کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے(شروع کرتا ہوں)۔اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ۰۰۲ کیا ہم نے تیرے لئے تیرے سینے کو کھول نہیں دیا۔حلّ لُغات۔الشّـرَح نَشْرَحْ : شَـرَحَ سے مضارع جمع متکلم کا صیغہ ہے اور لَمْ نفی کے لئے آیا ہے۔اور شَـرَحَ (یَشْـرَحُ شَـرْحًا) اللَّحْمَ کے معنے ہوتے ہیں قَطَعَہٗ طِوَالًا۔گوشت کو لمبی طرز پر کاٹا یا اس میںشگاف دیا اور شَـرَحَ الْـغَامِضَ کے معنے ہوتے ہیں کَشَفَہٗ کسی پیچیدہ بات کو واضح کردیا یعنی معمّہ کو حل کردیا۔فَسَّـرَہٗ وَبَیَّنَہٗ اس کی تفسیر کی اور اس کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا اور شَـرَحَ الشَّیْءَ کے معنے ہوتے ہیں فَتَحَہٗ اس کو کھول دیا۔اسی طرح وَسَّعَہٗ اسے پھیلادیا اور شَـرَحَ الْکَلَامَ کے معنے ہوتے ہیں فَھَّمَہٗ اس کو سمجھادیا اور شَـرَحَ صَدْرَہٗ بِالشَّیْءِ وَ لِلشَّیْءِ کے معنے ہوتے ہیں سَـرَّہٗ بِہٖ وَ طَیَّبَ بِہٖ نَفْسَہٗ اسے اس کے ذریعہ سے خوش کردیا (اقرب)۔مفردات راغب میں لکھا ہے اَصْلُ الشَّـرْحِ بَسْطُ اللَّحْمِ وَ نَـحْوِہٖ یعنی شَـرْحٌ کے اصل معنے تو گوشت یا ایسی ہی کسی چیز کو چیر کر کھول دینے کے ہوتے ہیں وَ مِنْہُ شَـرْحُ الصَّدْرِ اور اسی سے شرح الصدر کا محاورہ نکلا ہے۔جس کے معنے بَسْطَہٗ بِنُوْرٍ اِلٰھِیٍّ وَ سَکِیْنَۃٍ مِّنْ جِھَۃِ اللہِ وَ رَوْحٌ مِّنْہُ (مفردات) کے ہیں یعنی الٰہی نور اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے و الی تسکین اور اطمینا ن اور اس کی طرف سے آنے والے کلام یا ملائکہ کے ذریعہ سے سینہ کو کھول دینا۔ظاہر ہے کہ یہ معنے تفسیری ہیں ورنہ شرح صدر کا فعل صرف خدا تعالیٰ کےلئے نہیں بولاجاتا بلکہ عربی محاورہ کے مطابق بعض دفعہ اپنے ہم کلام کی بات سُن کرآدمی کہتا ہے کہ اب میرا شرح صدر ہوگیا اور اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ یہ بات میری سمجھ میں اچھی طرح آگئی ہے۔ہاں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کے حق