تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 163
سُوْرَۃُ الْاِنْشِـرَاحِ مَکِّیَّۃٌ سورۂ انشراح۔یہ سورۃ مکی ہے۔وَھِیَ ثَـمَانِیَ اٰیٰتٍ دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَ فِیْـھَا رُکُوْعٌ وَّاحِدٌ اور اس کی بسم اللہ کے سوا آٹھ آیات ہیں اور ایک رکوع ہے۔یہ سورۃ مکی ہے بلا خلاف (فتح البیان زیر سورۃ الانشراح)۔وہیری کے نزدیک اس کے نزول کا وقت مضمون کی مشارکت کی وجہ سے پہلی سورۃ کے زمانہ کا ہی معلوم ہوتا ہے(A Comprehensive Commentary on the Quran by Wherry Surat Al Inshirah vol,4 Page:255)۔یعنی پہلے یا دوسرے سال کی معلوم ہوتی ہے۔مغربی مصنفین کا اس امر کو تسلیم کرنا اسلام کی ایک بہت بڑی فتح ہے کیونکہ اس سورۃ میں ایسی زبردست پیشگوئیاں ہیں کہ انہیں تسلیم کرلینے کے بعد اسلام کی صداقت میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا ورنہ اس سورۃ کو مدنی کہہ کر ان پیشگوئیوں پر پردہ ڈالا جاسکتا تھا۔میرے نزدیک یہ سورۃ تیسرے سال یا اس کے قریب کی ہے۔اس کی ترتیب کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا تعلق پہلی سورۃ سے یہ ہے کہ پہلی سورۃ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انجام کے اچھا ہونے کا ذکر تھا جیسا کہ فرمایاتھا وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى۔یہ آیت اُس سورۃ کے مضمون کا گویا خلاصہ تھی کیونکہ اس میں پہلے دلائل کا ایک نتیجہ نکال کر لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔اب سورۃ الانشراح میںاس دعویٰ کے متعلق کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا انجام اچھا ہوگا مزید روشنی ڈالی گئی ہے اور پچھلی سورۃ کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ انجام کے اچھا ہونے کی کچھ علامتیں ہوتی ہیں اگر وہ علامتیں کسی شخص میں موجود ہوں تو وقت سے پہلے لوگ قیاس کرسکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی مدد اس شخص کو حاصل ہے یعنی انجام تو جب ہوگا سو ہوگا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اچھے انجام کو بعض علامتوں کے ساتھ پہچانا بھی جاسکتا ہے۔چنانچہ چار اہم علامتیں اللہ تعالیٰ اس جگہ بیان کرتا ہے۔اوّل یہ کہ انسان کو خو داپنے دعووں پر شرح صدر ہو۔دوم جس مقصد کو لے کر وہ کھڑا ہو اُس کو پورا کرنے کے ذرائع اس کو میسر آجائیں اور تیسرے یہ کہ لوگوں کی توجہ اس کی طرف پھر جائے۔چوتھے یہ کہ یہ سامان الٰہی تقدیر