تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 154

یُـخْزِیْکَ اللہُ اَبَدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِـمَ وَتَـحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْـحَقِّ (صحیح بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی) خدا کی قسم اللہ آپؐکو کبھی رسوا نہیں کرے گا کیونکہ آپؐصلہ رحمی کرتے ہیں آپ لوگوں کے بوجھ بٹاتے ہیں۔آپؐمعدوم اخلاق کو اپنے اندر رکھتے ہیں۔آپ مہمان نوازی کرتے ہیں۔آپ مصیبت زدوں کی امداد کرتے ہیں۔آپؐجیسے انسان کو خدا کس طرح ضائع کر سکتا ہے۔یہ بیوی کی گواہی ہے جواس بات کو ثابت کر رہی ہے کہ آپؐان معنوں میں ضَالٌّ نہیں تھے جو دشمن کی طرف سے کئے جاتے ہیں۔پھر بیوی نے تو آپ کی چالیس سالہ عمر کے وقت یہ گواہی دی تھی۔اس سے پہلے آپؐکی ۲۴ سالہ عمر میں حضرت خدیجہ ؓ کے غلاموں نے آپ کی نیکی اور راستبازی اور دیانت کی گواہی دی۔چنانچہ حضرت خدیجہ ؓ نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا مال تجارت دے کر شام میں بھجوایا تو واپسی پر حضرت خدیجہ ؓ نے ایک ایک غلام کو بلا کر اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حالات دریافت کئے۔ہر غلام نے آپ کی تعریف کی اور ہر غلام نے کہا کہ ہم نے اس جیسا دیانتدار اور با اخلاق انسان اور کوئی نہیں دیکھا۔حضرت خدیجہ ؓ جانتی تھیں کہ تجارتی قافلوں کے ساتھ جن لوگوں کو بھیجا جاتا ہے وہ خود بہت سا مال کھا جاتے ہیں۔مگر ان غلاموں نے بتایا کہ انہوں نے نہ صرف خود کوئی مال نہیں کھایا بلکہ ہمیں بھی ناجائز طور پر کوئی تصرف نہیں کرنے دیا۔جو رقم ان کے لئے مقرر تھی صرف وہی لیتے تھے اور اسی رقم میں سے کھانا بھی کھاتے تھے۔اس سے زائد انہوں نے ایک پیسہ بھی نہیںلیا۔یہی وہ حالات تھے جن کو دیکھ کر حضرت خدیجہ ؓ اس قدر متاثر ہوئیں کہ انہوں نے آپؐکو شادی کا پیغام بھجوادیا(السیرۃ الحلبیۃ باب سفرہ صلی اللہ علیہ وسلم الی الشام ثانیا)۔غرض تمام گواہیاں جو بچپن سے لے کر چالیس سالہ عمر تک ملتی ہیں وہ سب کی سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اخلاقی لحاظ سے گمراہ نہیں تھے اور جب کہ سب کی سب گواہیاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو پاک اور بے عیب ثابت کر رہی ہیں تو وہ لوگ جو ضَالًّا کے معنے گمراہ ہو جانے کے کرتے ہیں وہ خود ہی بتائیں کہ ان کے معنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کس طرح چسپاں ہو سکتے ہیں۔شریعت سے گمراہ تو آپؐہو ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ کوئی شریعت اس وقت تھی ہی نہیں۔اگر اخلاقی گمراہی مراد لو تو وہ بھی چسپاں نہیں ہو سکتی۔کیونکہ اوّل سے آخر تک تمام گواہیاں ثابت کر رہی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق نہایت اعلیٰ درجہ کے تھے۔جب آپؐشریعت کے لحاظ سے بھی گمراہ نہیںتھے اور اخلاق کے لحاظ سے بھی