تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 153
چاہتا ہے تو کیا تم میری بات کو مان لو گے؟ انہوں نے کہا۔ہاں۔کیونکہ ہم نے آپ کو ہمیشہ سچ بولنے والا پایا ہے (بخاری کتاب التفسیر سورۃ الشعراء زیر آیت وانذر عشیرتک الاقربین ) حالانکہ یہ بات ایسی تھی جسے بظاہر کوئی شخص تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیںہوسکتا تھا وجہ یہ ہے کہ مکہ کے لوگوں کے جانور وادی میں چرا کرتے تھے اور وہ ایسا علاقہ تھا کہ جس میںکسی لشکر کا چھپ رہنا نا ممکن تھا۔کیونکہ وہاں کوئی درختوں کا جنگل نہ تھا بلکہ کھلا میدان تھا۔مگر باوجود اس کے کہ ظاہری حالات کے لحا ظ سے ایسا بالکل نا ممکن تھا کہ کوئی لشکر آئے اور مکہ والوں کو اس کا علم نہ ہو۔پھر بھی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں تم کو خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے (یہ پہاڑ دراصل ایک معمولی ٹیلہ ہے۔ڈلہوزی شملہ جیسا پہاڑ نہیں ) ایک لشکر چھپا ہوا ہے اور وہ تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری بات کو مان لو گے یا نہیں؟ تو ان سب نے یہ جواب دیا کہ ہم ضرور مان لیں گے۔جس کے معنے یہ تھے کہ گویہ بات بالکل ناممکن ہے مگر چونکہ آپ کہیں گے اور آپ وہ ہیں جنہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔اس لئے ہم اس ناممکن بات کو بھی ممکن سمجھ لیںگے اور آپؐکی بات کو درست قراردے دیںگے۔جب انہوں نے آپؐپر اس قدر اعتماد کا اظہار کر دیا تو آپؐنے فرمایا۔میںتمہیںخبر دیتا ہوں کہ تم پر خد اکا عذاب نازل ہونے والا ہے تم اپنی اصلاح کر لو۔یہ سنتے ہی سب لوگ آپ کو پاگل کہتے اور ہنسی اڑاتے ہوئے منتشر ہو گئے دشمن کی یہ گواہی اس صداقت اور راستبازی کا ایک بیّن ثبوت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر پائی جاتی تھی۔اسی طرح خانہء کعبہ کی تعمیر کے وقت جب حجر اسود کو اس کی اصل جگہ پر رکھنے کے متعلق قبائل قریش میں شدید اختلاف پیدا ہو گیا یہاں تک کہ وہ آپس میں کٹ مرنے کے لئے بھی تیار ہو گئے۔اس وقت آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی اس جھگڑے کو نپٹایا اور تاریخ میںلکھا ہے کہ جب لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آتے دیکھا تو سب لوگ یک زبان ہو کر پکار اٹھے کہ ھٰذَا الْاَمِیْنُ رَضِیْنَا ھٰذَا مُـحَمَّدٌ۔اَمِیْنٌ۔اَمِیْنٌ۔اور سب نے کہا کہ ہم اس کے فیصلہ پر راضی ہیں (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام حدیث بنیان الکعبۃ) یہ کفار کی دوسری شہادت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ابتدائی زندگی کے نہایت ہی اعلیٰ ہونے کا ایک کھلا ثبوت ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ قریب کی گواہ بیوی ہوتی ہے وہ اپنے شوہر کے جن حالات کو جانتی ہے عام لوگ ان حالات کو نہیں جانتے۔اس لئے خاوند کے متعلق بیوی کی گواہی اور تمام گواہیوں سے زیادہ معتبر شمار کی جاتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ گواہی بھی حاصل ہوئی۔چنانچہ جب آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی اور آپؐنے گھبرا کر حضرت خدیجہ ؓ سے اس کا ذکر کیا تو حضرت خدیجہ ؓ نے ان الفاظ میں آپؐکو تسلی دی کہ کَلَّا وَاللہِ مَا