تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 155
گمراہ نہیں تھے تو پھر سوال یہ ہے کہ تیسری کون سی گمراہی ہے جو آپؐکے اندر پائی جاتی تھی۔اگر کہو کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ آپؐکفر سے گمراہ ہو گئے تو ہم بے شک کہتے ہیں کہ اٰمَنَّا وَ صَدَّقْنَا ہم تسلیم کرتے ہیں کہ آپؐنے کفر کا راستہ اختیار نہیں کیا۔مگر جو معنے مخالف کرتے ہیں وہ قطعی طور پر غلط ہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی ایک ایک گھڑی اور اس وقت کے حالات دونوں ان معنوں کو بے بنیاد ثابت کر رہے ہیں۔وَ وَجَدَكَ عَآىِٕلًا فَاَغْنٰىؕ۰۰۹ اور تجھے کثیر العیال پایا تو غنی کر دیا۔حلّ لُغات۔عَائِلًا عَائِلاً : عَالَ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اور عَالَ عَیَالَہٗ کے معنے ہوتے ہیں کَفَاھُمْ مَعَاشَھُمْ وَمَانَـھُمْ۔اپنے اہل و عیال کے گذارہ کا پوری طرح بندو بست کیا۔اور عَالَ الْیَتِیْمَ کے معنے ہوتے ہیں کَفَلَہٗ وَ قَامَ بِہٖ یتیم کے اخراجات کا ذمہ دار ہو گیا۔اور عَالَ فُلَانٌ عَوْلًا کے معنے ہوتے ہیں کَثُـرَ عَیَالُہٗ۔اس کا کنبہ زیادہ ہو گیا(اقرب)۔گویا اس کے دو معنے ہوئے۔ایک معنے تو یہ ہیں کہ انسان دوسروں کا کفیل ہو جائے۔ان کے اخراجات کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لے اور ان کی خبر گیری رکھے اور دوسرے معنے یہ ہیں کہ وہ کثیر العیال ہو جائے۔تفسیر۔وَ وَجَدَكَ عَآىِٕلًا فَاَغْنٰى کے دو معنے ہیں۔اوّل یہ کہ ہم نے تجھ کو کثیر العیال پایا اور تیری ضرورت پوری کر دی۔دوسرے یہ کہ ہم نے دیکھا کہ تو ہی ایک ایسا شخص ہے جو ہر یتیم اور بے کس کی خبرگیری کرتا ہے اس لئے ہم نے بھی تجھے دولت دے دی تا کہ تو ان کی ضروریات کو پور ا کر سکے۔پہلے معنوں کے لحاظ سے اس آیت کا یہ مفہوم ہو گا کہ تُو اپنے عیال کی خبر گیری کے قابل نہ تھا مگر ہم نے دولت دے کر تیری غربت کو دور کر دیا اور دوسرے معنوں کے لحاظ سے اس آیت کا یہ مفہوم ہے کہ تیرے اندر یہ جذبۂ شوق پایا جاتا تھا کہ تو ہر مسکین اور یتیم کو پناہ دے۔جو بھی درماندہ اور بے کس انسان تجھے نظر آتا تو اسے اپنی آغوش شفقت میںلے لیتا۔اُس کے سر پر اپنی محبت کا ہاتھ رکھتا اور اس کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا جب ہم نے تیرے اس جذبۂ محبت اور جذبۂ ہمدردی کو دیکھا۔تو ہم نے بھی اپنی دولت تیرے سپرد کر دی تا کہ تو ہمارے بے کس اور نادار بندوں کا کفیل ہو۔یہاں دولت سے مراد صرف جسمانی دولت نہیں بلکہ روحانی دولت بھی مراد ہے اور یتامیٰ و مساکین سے مراد بھی صرف