تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 141
کے ہاتھ میں گوبر دیا گیا جسے بیس سال کے قلیل عرصہ میں انہوں نے سونا بنا دیا اور خالی سونا نہیں بلکہ صاف اور کھرا سونا۔اخلاق ان کے درست ہو گئے، تمدن ان کا درست ہو گیا، علمی حالت ان کی درست ہو گئی، رعب اور دبدبہ ان کا بڑھ گیا، عزت ان کی بڑھی، رتبہ اور شان و شوکت ان کو حاصل ہوا۔غرض کوئی پہلو ایسا نہ تھا جو نامکمل رہ گیا ہو۔کوئی شعبہ ایسا نہ تھا جس میں اُن کو کمال تک نہ پہنچا دیا گیا ہو۔ہر قسم کی اصلاح خواہ وہ اخلاقی ہو یا دینی، مذہبی ہو یا عائلی، اقتصادی ہو یا سیاسی، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر انجام دی۔پس فرمایا وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى۔گھبرائو نہیں ہم جلدی ہی اس عظیم الشان کام سے تمہیں فارغ کر دیں گے۔بے شک ہم نے ایک بہت بڑے کام کی تم پر ذمہ داری ڈالی ہے مگر ہم جانتے ہیں کہ تمہاری اصل خوشی ہمارے پاس آنے میں ہے اس لئے ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم تجھے جلد ہی ان مقاصد میںکامیاب کر دیںگے۔چنانچہ اتنے تھوڑے عرصہ میںاتنا بڑا کام دنیا میں اور کسی نے بھی نہیں کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر وفات کے وقت شمسی لحاظ سے صرف باسٹھ سال تھی اتنی قلیل عمر میں کتنا عظیم الشان کام آپؐنے کیا کہ اسے دیکھ کر حیرت آتی ہے۔وَ لَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى میں آنحضرت صلعم کی طرف کامل شریعت نازل کئے جانے کی طرف اشارہ دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ کامل شریعت تجھ پر نازل ہو جائے گی کیونکہ انسان کمال پر راضی ہوتا ہے فرماتا ہے وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى۔ہم تجھے اتنا دیں گے کہ توآپ ہی آپ کہہ دے گا کہ اب ترقی کی گنجائش نہیں۔جب آخری شریعت آپؐکو دے دی گئی توا س کے بعد آپؐنے اور کیا مانگنا تھا۔بے شک جہاں تک الٰہی قرب اور اس کے مدارج کا سوال ہے وہ غیر محدود ہیں اور کبھی کوئی مقام ایسا نہیںآسکتا جب انسان یہ کہے کہ اب مجھے کسی اور درجہ قرب کی احتیاج باقی نہیں رہی مگر جہاں تک شریعت کا سوال ہے آخری اور کامل شریعت کے بعد اور کون سی بات باقی رہ سکتی ہے پس فرماتا ہے ہم تجھے وہ کچھ دیں گے کہ تو بھی یہ کہہ دے گا کہ اس سے اوپر اور کوئی درجہ نہیں۔چنانچہ جہاں تک انسانی تعلق ہے اس کے لحاظ سے آخری شریعت سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے؟ پس اس کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ ہم شریعت کاملہ تجھے عطا کریں گے۔اسلام کے بچاؤ کے لئے مستقل نظام قائم کئے جانے کا وعدہ تیسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ آئندہ اسلام کے بچائو کے لئے ایک مستقل نظام قائم کر دیا جائے گا۔درحقیقت پہلی خواہش انسان کے دل میں یہ ہوتی ہے کہ میںاپنا کام جلد سے جلد پورا کر لوں۔دوسری خواہش یہ ہوتی ہے کہ جو کام میرے سپرد ہو وہ اپنی ذات میں کامل ہو۔تیسری خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ کام مٹے نہیں۔وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى میں یہ تینوں باتیں اللہ تعالیٰ نے