تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 140
اپنے پاس بُلا لے۔باقی صحابہؓ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطلب کو نہ سمجھے مگر ابو بکر سمجھ گئے اور اُن سے رِقّت برداشت نہ ہو سکی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو تسلّی دے دی کہ اگر تم کو مجھ سے محبت ہے تو مجھے بھی تم سے محبت ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا اگر دنیا میں کسی کو خلیل بنانا جائز ہوتا تو میں ابو بکر کو اپنا خلیل بناتا۔پھر اس کے ساتھ ہی آپ نے اس طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ میرے بعد کام کی ذمہ داری ابو بکر پر پڑنے والی ہے چنانچہ آپ نے فرمایا سب کھڑکیاں بند کردو سوائے ابو بکرؓ کی کھڑکی کے جس میں حکمت یہ تھی کہ ابو بکرؓ کو نمازیں پڑھانے کے لئے مسجد میں آنا پڑے گااِس لئے اُن کی کھڑکی کا کھلا رہنا ضروری ہے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی خوشی اِسی بات میں تھی کہ آپ کو اپنے رب کا وصال حاصل ہو۔دنیوی کام کو آپ جلد سے جلد سر انجام دیں اور رفیق اعلیٰ کے پاس لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ کہتےہوئے حاضر ہوجائیں چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الموت سے بیمار ہوئے تو آخری وقت میں آپ کی زبان پر یہی الفاظ جاری تھے کہ اِلَی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی یعنی اے میرے رب میری خواہش اب یہی ہے کہ میں تیرے پاس آجائوں۔پس وَ لَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى۔کے الفاظ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم اپناکام جو تیرے سپرد کرتے ہیں بظاہر وہ بہت لمبا نظر آتا ہے مگر ہم تجھے ایسی توفیق دے دیں گے کہ تو اس کام کو جلدی ختم کر لے گا چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیئس سال کی قلیل مدت میں اپنے تمام کام کو ختم کر لیا۔اتنے قلیل عرصہ میں اس قدر عظیم الشان کام کو سرانجام دینے کی مثال دنیا میںاور کہیں نظر نہیںآسکتی بلکہ اس کام کی مثال تو کیا اس کے ہزارویں بلکہ لاکھویںحصہ کی مثال بھی دنیا کے اور کسی شخص کی زندگی میں نہیں مل سکتی۔دنیا میںبڑے بڑے لوگ گذرے ہیںمگر ان کا انجام کتنا تلخ اور عبرت ناک ہو اہے۔ہٹلر کو دیکھ لو اس کا کیا انجام ہوا۔نیپولین کو دیکھ لو وہ کیسی خراب حالت میںمرا۔یہ لوگ بڑے بڑے دعووں کے ساتھ اٹھے تھے اور انہوں نے بظاہر کچھ کامیابی بھی حاصل کی مگر آخر ناکامی کے سوا ان کو کچھ ہاتھ نہ آیا۔پھر یہ بھی ایک غور کرنے والی بات ہے کہ یہ لوگ جن قوموںمیں پیدا ہوئے اور جن لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر ترقی کی طرف بڑھے وہ پہلے ہی قربانی کی روح اپنے اندر رکھنے والے تھے۔پہلے ہی ان کے اندریہ جوش پایا جاتا تھا کہ ہم دنیاپر حکومت کریں اور لوگوںپر غلبہ و اقتدار حاصل کریں۔نیپولین نے بے شک ترقی حاصل کی مگر وہ ایک ترقی یافتہ قوم کو اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھا۔اسی طرح ہٹلرنے بے شک فتوحات حاصل کیںمگر ہٹلر ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا کہ جرمن قوم دنیا میںسب سے زیادہ منظم اور سب سے زیادہ قربانی کی روح اپنے اندر رکھنے والی سمجھی جاتی تھی لیکن عرب کیا تھا؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم