تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 142

بیان کر دیں کہ ہم تجھے اس کام سے جلد سے جلد فارغ کر دیں گے، ہم کامل شریعت تجھے عطا کریں گے اور پھر ایک زائد وعدہ تجھ سے یہ کرتے ہیں کہ جب بھی اس کام میںکوئی نقص پیدا ہو گا اللہ تعالیٰ تیری روحانی اولا د میں سے کسی کو اصلاح خلق کے لئے کھڑا کر دے گا اور اسلام کو تباہ نہ ہونے دے گا۔اولاد پیدا ہوتی ہے تو لوگ کتنے خوش ہوتے ہیں محض اس لئے کہ وہ ان کے نام کو زندہ رکھے گی لوگوں کی یہ خوشی تو بعض دفعہ بالکل بے حقیقت ہوتی ہے اور جس اولاد کی پیدائش پر وہ خوش ہوتے ہیں وہی ان کو ذلیل کرنے والی بن جاتی ہے مگر فرماتا ہے تیرے لئے یہ حقیقی خوشی کی بات ہے کہ جب بھی کسی روحانی بیٹے کی تجھے ضرورت محسوس ہو گی ہم اسے پیدا کر دیں گے جو تیرے کام کو پھر دنیا میںزندہ کر دے گا۔اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاٰوٰى۰۰۷ کیا اس نے تجھے یتیم پا کر (اپنے زیر سایہ ) جگہ نہیں دی۔تفسیر۔فرماتا ہے تیرے مستقبل کے متعلق لوگوں کے دلوں میں شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ یہ تو محض باتیں ہوئیں ہم کس طرح مان سکتے ہیں کہ ایسا ہو جائے گا۔یوں تو ہر شخص دوسروں کو تسلی دے سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ یوںہو جائے گا، ووںہو جائے گا۔اس قسم کی باتوں سے کیا بن سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ لوگ جن کے دلوں میں یہ شبہ پایا جاتا ہے وہ تیرا ماضی دیکھ لیںتُو بھی دیکھ اور دنیا بھی دیکھے کہ کیا ہم نے تجھے یتیم نہیں پایا تھا اور کیا ہر موقع پر ایسا نہیںہوا کہ ہم نے تجھے پناہ دی اور تجھے ہر قسم کے نقصان سے بچایا۔اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاٰوٰى کی صداقت کا ثبوت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی رحم مادر میںہی تھے کہ آپؐکے والد فوت ہو گئے۔جب آپؐکی پیدائش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے دادا عبدالمطلب کے دل میں آپ کی غیر معمولی طور پر محبت پیدا کر دی۔عام طور پر ایسے حالات میںانسان کی توجہ پوتوں کی بجائے اپنے دوسرے بیٹوں کی طرف ہوتی ہے مگر عبدالمطلب کی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے بیٹوں کو تو ڈانٹ ڈپٹ لیتے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیشہ محبت اور پیار رکھتے حالانکہ ان کے لڑکے جوان تھے اور وہ ان کی خدمت بھی کرتے رہتے تھے مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی محبت پیدا کر دی کہ آپؐاگر تھوڑی دیر کے لئے بھی ان کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے تو وہ بے چین ہو جاتے تھے۔آپؐکو ہر وقت گودی میں اٹھائے رکھتے