تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 139

میں بیان کرتا ہےا ور فرماتا ہے ہم تیرے اُن کاموں کا ذکر کر رہے ہیں جو دنیا سے متعلق ہیں اور تُو اپنے دل میں کہہ رہا ہوگا کہ اصل مطلب کا ذکر ہی نہیں۔اس لئے ہم کہتے ہیں کہ کام بڑا ہے مگر ہم جلدی کروا دیں گے اور جلد ہی تم کو وہ دے دیں گے جس سے تو راضی ہو جائے گا۔یعنی اس کام کے لئے بظاہر تو سینکڑوں سال کی عمر چاہیے مگر تیرے سب دنیوی کام جلد ہو جائیں گے اور تُو اِلَی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی کہتا ہوا ہمارے پاس آجائے گا اور اس طرح تجھے وہ چیز مل جائے گی جو تُو پسند کرتا ہے یعنی ہمارا وصال تجھے حاصل ہوجائے گا اور فراق کی یہ کٹھن گھڑیاں کٹ جائیں گی۔احادیث میں آتا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ سورۃ نازل ہوئی کہ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ۔وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا۔فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۔تو آپؐنے ایک خطبہ پڑھا اور فرمایا ہر نبی کے زمانہ کا ایک کام ہوتا ہے جب وہ اُس کام کو ختم کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ ایک دوسرا دَور شروع کردیتا ہے۔پھر آپ نے فرمایا خدا کا ایک بندہ تھا اُس سے خدا تعالیٰ نے کہا کہ تم اگر چاہو تو دنیا میں رہو اور اگر چاہو تو ہمارے پاس آجاؤ اُس نے کہا کہ یا اللہ! میں اب دنیا میں نہیں رہنا چاہتا میری خواہش یہی ہے کہ تُو مجھے اپنے پاس بُلا لے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ واقعہ بیان فرمایا تو حضرت ابو بکرؓ رو پڑے اور اس قدر روئے کہ گھِگھی بندھ گئی باقی صحابہ کو سخت حیرت ہوئی کہ ابو بکرؓ رو کیوں رہے ہیں۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں مجھے تو اُن کے رونے سے سخت غصہ آیا اور میں نے کہا اسلام کے لئے فتح کا وقت آیا ہے تو یہ بڈھا رونے لگ گیا ہے۔یہ بد شگونی کیوں کرتا ہے خدا تعالیٰ نے اپنے کسی بندے کو اختیار دیا کہ وہ اگر چاہے تو دنیا میں رہے اور اگر چاہے تو اللہ تعالیٰ کے پاس چلا جائے۔اُس نے اللہ تعالیٰ کے پاس جانے کو ترجیح دی اور دنیا میں رہنا پسند نہ کیا۔اس میں رونے کا کون سا مقام ہے اور پھر ایسی حالت میں جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام کی فتح اور اُس کے غلبہ کی پیشگوئی ہوئی ہے مگر ابوبکرؓ تھے کہ اُن کا رونا تھمتا ہی نہیں تھا۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَـــوْ کُـــنْــتُ مُــتَّــخِـذًاخَــــلِــیْــلًا مّــِنْ اُمَّــتِیْ لَاتَّـــخَــذْتُ اَبَا بَکْرٍ۔اگر کسی کو خلیل بنانا جائز ہوتا تو میں ابو بکر کو خلیل بناتا۔پھر آپ نے فرمایا لَا یَبْقَیَنَّ فِی الْمَسْجِدِ بَابٌ اِلَّا سُدَّ اِلَّا بَابُ اَبِیْ بَکْرٍ۔مسجد میں جس قدر کھڑکیاں کھلتی ہیں وہ سب کی سب بند کر دو سوائے ابوبکر کی کھڑکی کے۔(بخاری کتاب الصلٰوۃ باب الـخوخۃ والممرّ فِی الْمَسْجِدِ ) اس طرح آپ نے اس امر کا اظہار فرما دیا کہ ابو بکر سمجھ گئے ہیں کہ میرا اس واقعہ کے بیان کرنے سے کیا منشاء تھا مجھے دنیا میں رہنے کی خوشی نہیں بلکہ میری ساری خوشی اور میری ساری راحت اپنے آقا اور محبوب کے پاس جانے میں ہے اب چونکہ میرا کام ختم ہوچکا ہے اس لئے میرا دنیا میں ٹھہرنا عبث ہے میری خواہش اور میری آرزو یہی ہے کہ میرا رب مجھے