تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 138
آنکھوں سے دیکھ لو گے اور وہ کام جسے دنیا ناممکن سمجھتی ہے الٰہی تائید اور نصرت کےساتھ اپنی تکمیل کو پہنچ جائے گا اور تیرا رب جلد ہی تجھ کو وہ سب کچھ دے گا جس سے تُو راضی ہو جائے گا۔درحقیقت کام ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے کسی شخص کی شان اور اس کی عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کام کیا گیا تھا وہ بظاہر بہت بڑا وقت چاہتا تھا، بہت بڑی جدو جہد اور بہت بڑی قربانی کا تقاضا کرتا تھا اور انسان اس کام کو دیکھ کر یہ خیال کرتاتھا کہ اس کے لئے تو عمرِ نوح کی ضرورت ہے تھوڑے سے وقت میں اتنا عظیم الشان کام کس طرح انجام دیا جا سکتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطمینان دلایا کہ بے شک کام بڑا ہے اور بظاہر بہت بڑا وقت چاہتا ہے مگر ہم یہ کام تجھ سے جلدی کروا دیں گے چنانچہ ایک قلیل ترین عرصہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حیرت انگیز کام کر کے دکھایا اُس کی مثال دنیا میں کہیں نظر نہیں آسکتی۔تم اپنے صوبہ پنجاب کو ہی لے لو، سندھ کو لے لو، سرحد کو لے لو باوجود اس کے کہ یہ صوبے سو سال سے تعلیم حاصل کرنے میں مشغول ہیں پھر بھی وہ پوری تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔باوجود اس کے کہ وہ سو سال سے اپنے تمدن کی ترقی میں مصروف ہیں پھر بھی وہ اپنے تمدن کو پورے طور پر ترقی نہیں دے سکے۔باوجود اس کے کہ وہ سو سال سے لوگوں کے اخلاق کی درستی میں لگے ہوئے ہیں پھر بھی وہ درستی ٔاخلاق میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکے۔غرض الگ الگ جماعتیں الگ الگ کاموں کے لئے سو سو سال سے مصروف ہیں مگر ہنوز روزِ اوّل والا معاملہ ہے۔نہ انہیں تعلیمی ترقی حاصل ہوئی ہے نہ اُنہیں تمدنی ترقی حاصل ہوئی ہے نہ انہیں اخلاقی ترقی حاصل ہوئی ہے۔اس کے مقابل میں اسلام ایک ایسا منزل مقصود تھا جس سے اونچا اور بلند تر کوئی اور منزل مقصود نہیں ہو سکتا۔پھر اسلام وہ مذہب تھا جو حاوی تھا تمام اقسام کی اصلاحات پر۔اُس میں تمدنی اصلاح بھی شامل تھی۔اُس میں اقتصادی اصلاح بھی شامل تھی۔اُس میں عائلی اصلاح بھی شامل تھی۔اُس میں سیاسی اصلاح بھی شامل تھی۔اُس میں فکری اصلاح بھی شامل تھی۔غرض ایک نہیں ساری اصلاحیں اُس میں شامل تھیں اور پھر ہر ایک کا آئیڈیل IDEAL اور منزلِ مقصود بہت بالا تھا۔جب یہ عظیم الشان کام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد ہوا اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر بھی دے دی گئی کہ تم اپنی آنکھوں سے ضُـحٰی بھی دیکھ لو گے تو چونکہ محب اپنے محبوب سے زیادہ دیر تک جدا نہیں رہ سکتا بلکہ محب اپنے محبوب کے پاس جانا ہی پسند کرتا ہے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں بے چینی پیدا ہوتی تھی کہ نہ معلوم یہ کام کب ختم ہو۔آپ کہتے ہوں گے الٰہی پتہ نہیں یہ کام پچاس سال میں ختم ہو، ساٹھ سال میں ختم ہو، سو سال میں ختم ہو۔کیا میں اتنی دیر تجھ سے جدا رہوں گا اللہ تعالیٰ اسی مضمون کو اس آیت