تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 122
ہو گا مگر یہ نہیں ہو گا کہ معیت جاتی رہے۔یہ وہی مقام ہے جسے صوفیاء نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْنَ (تشیید المبانی تـخریج احادیث مکتوبات الامام ربانی صفحۃ ۳۴) در اصل اس مقام کو کھول کر بیان کر نا سخت مشکل ہوتاہے یہی وجہ ہے کہ صوفیاء نے بجائے کھلے طورپر ا س کا ذکر کرنے کے اشاروں اشاروں میںہی بیان کر دیا کہ حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْنَ یعنی وہ مقام جو ابرار کے لئے بسط کا ہوتا ہے اور جسے وہ حصول عرفان کا بلند ترین درجہ سمجھتے ہیںوہ مقربین کے لئے قبض کا مقام ہوتا ہے۔انہوں نے بھی اشاروں میںیہ بات بیان کی ہے اور میں بھی اس بات پر مجبور ہوں کہ اشاروں تک اس بات کو محدود رکھوں۔حقیقت میں یہ روحانی لہریں ہوتی ہیں جو کبھی اونچی چلی جاتی ہیں اور کبھی نیچے کی طرف آجاتی ہیں۔ان کے لئے اس بات کو بیان کرنا مشکل تھا اور میرے لئے نسبتاً آسانی ہے کیوں کہ لہروں کے علم نے اس مسئلہ کو سمجھنے میں بہت کچھ سہولت پیدا کردی ہے۔بہرحال اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہ مضمون بیان فرماتا ہے کہ محمدی مقام کی نچلی لہریں بھی مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى کا ثبوت ہیںاور محمدی مقام کی اونچی لہریں بھی مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى کے ماتحت ہیں۔دونوں حالتوں میں خدا تعالیٰ کی معیت آپؐکے شامل حال رہے گی اور کبھی کوئی مقام خدا تعالیٰ کی ناراضگی یا اس کی ناپسندیدگی کا نہیںآئے گا۔جس طرح پرندہ اڑتا ہے تو ایک جھٹکا کھاتا ہے اور بظاہر نظر آتا ہے کہ وہ نیچے ہوا ہے حالانکہ وہ اڑان کا ایک حصہ ہے اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اللہ تعالیٰ کی صفت قبض اس طرح ظاہر ہو گی کہ ہر قبض کی حالت بسط کا موجب بنے گی اور اوپر اٹھانے کا ذریعہ ہو گی۔وَ الضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى کے ساتویں معنے ساتویں معنے وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى کے یہ ہیں کہ ہرنبی کی دو زندگیاں ہوتی ہیں ایک اس کی فردی زندگی ہوتی ہے اور ایک اس کے سلسلہ کی زندگی ہوتی ہے۔فردی زندگی کے لحاظ سے اگر اس آیت کے مضمون کو لیا جائے تو ضُـحٰی اور لَیْل دونوں زمانے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی حیات کے ساتھ تعلق رکھیں گے لیکن جب اس آیت کو آپؐکی قومی زندگی پر چسپاں کیا جائے گا تو ضُـحٰی اور لَیْل سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات کے بعد کے وہ دور مراد ہوں گے جو امت محمدیہ پر آنے والے تھے۔اللہ تعالیٰ اس آیت میںاسی جماعتی زندگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى۔ہم اس وقت کو بھی پیش کرتے ہیں جو تیری قومی اور جماعتی زندگی کے لئے ضُـحٰی کی حیثیت رکھتا ہوگا اور ہم اس وقت کو بھی پیش کرتے ہیں جو تیری قومی اور جماعتی زندگی کے لئے لَیْل کا مصداق ہو گا۔دنیا میں ہرقوم پر ترقی اور تنزل کے مختلف دور آتے ہیں کبھی اقبال اور فتح مندی اس کے شامل حال ہوتی ہے اور کبھی ادبار اور