تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 121

روک پیدا ہوجائے گی یا قلب میں وہ بلندی نہیں ہو گی جو دوسرے وقتوں میں تجھے نظر آئے گی۔مگر تیرے قلب کی یہ کیفیت دوسرے لوگوں سے بالکل مختلف ہو گی اور لوگوں کے دلوں میںجب قبض آتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ سے دور جا پڑتے ہیں مگر فرمایا مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى۔تیری ضُـحٰی کی حالت بھی خدا کو پیاری ہو گی اور تیری لَیْل کی حالت بھی خدا کو پیاری ہو گی۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا میںجس قدر چیزیں پائی جاتی ہیں وہ سب لہروں میںچلتی ہیں۔پہاڑ ہیں تو وہ لہروں میںچلتے ہیں۔دریا ہیںتو وہ لہروں میںچلتے ہیں۔ہوائیں ہیں تووہ لہروں میںچلتی ہیں۔بجلیاں ہیں تو وہ لہروں میںچلتی ہیں، غرض ہر چیز اپنے اندر لہریں رکھتی ہے۔جس طرح مادیات میں لہروں کا قانون جاری ہے اسی طرح روحانیات میںبھی مختلف لہریںچلتی رہتی ہیںلیکن بعض لہریںایسی ہوتی ہیںکہ ان لہروں کی جو ادنیٰ حالت ہوتی ہے وہ بھی کفر کی ہوتی ہے اور جو اعلیٰ حالت ہوتی ہے وہ بھی کفر کی ہوتی ہے۔اگر ان لہروں میںکبھی انسان پر خشیت بھی طاری ہوتی ہے تو وہ ایسی نہیںہوتی جو ایمان کی علامت ہو۔اس کے مقابل میں بعض لہریںایسی ہوتی ہیں کہ ان کی ادنیٰ حالت کفر کی ہوتی ہے اور اعلیٰ حالت ایمان کی ہوتی ہے اور بعض ایسی روحانی حالتیں ہوتی ہیں کہ ادنیٰ حالت گو کفر کی نہیںہوتی مگر خدا تعالیٰ کی معیت کی بھی نہیں ہوتی۔یعنی گو وہ ادنیٰ حالت خدا تعالیٰ کی ناراضگی والی نہ ہو مگر ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ایسے شخص کو خدا تعالیٰ کی معیت حاصل ہے۔ایک حالت عدم معیت کی ہوتی ہے اور ایک حالت حصول معیت کی ہوتی ہے یہ الگ الگ مقام ہیں جو روحانی درجات کے حصول کے وقت پیش آتے ہیں۔ایسے شخص کی ادنیٰ حالت کو دیکھ کر ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اسے خدا تعالیٰ کی مقبولیت حاصل ہے گو ہم یہ بھی نہیںکہیں گے کہ خدا تعالیٰ نے اسے چھوڑ ا ہوا ہے ہاں اس کی اعلیٰ حالت بے شک خدا تعالیٰ کی معیت کا ثبوت ہوتی ہے۔لیکن ایک مقام وہ ہے کہ جب انسان نیچے آئے تب بھی اسے خدا تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے اور جب اونچا چلا جائے تب بھی اسے خدا تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے۔پس فرماتا ہے وَ الضُّحٰى۔وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰى۔اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم روحانی لہروں میںتیرے لئے وہ وقت بھی آتا ہے جو ضُـحٰی کا ہوتا ہے اور جب تو کلّی طور پر خدا کے سامنے ہوتا ہے اور تیرے لئے وہ وقت بھی آتا ہے جب تجھ پر قبض طاری ہوتی ہے مگر مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى۔تیری قبض کی حالت بھی خدا کی معیت کے ماتحت ہو گی اور تیری بسط کی حالت بھی خدا کی معیت کے ماتحت ہو گی۔صرف معیت کے مدارج میں فرق ہو گا یہ نہیں ہو گا کہ خدا تعالیٰ کی معیت کا مقام جو تجھے حاصل ہے وہ کسی حالت میں جاتا رہے۔تیری دونوں حالتیں خواہ وہ قبض کی ہوں یا بسط کی خدا کی معیت اور اس کی خوشنودی کا ثبوت ہوں گی صرف کمی بیشی کا فرق