تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 123
ناکامی کی گھٹائیںاس پر چھائی ہوتی ہیں بالعموم قومیں ترقی کر کے جب تنزل کی طرف جاتی ہیں تو ہمیشہ کے لئے تباہ اور برباد ہو جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جو زمانہ نبوت ہے یعنی آپؐکے دعویٰ سے لے کر قیامت تک کا زمانہ یہ دورِ تنزل سے بالکل محفوظ رہے گا۔ضُـحٰی کی روشنی یکساں جلوہ گر رہے گی، کبھی لوگ خدا سے دور نہیں ہوں گے اور ادباریا گمراہی کا زمانہ اُمتِ محمدیہؐ پر نہیںآئے گا بلکہ ہم مانتے ہیں کہ ضُـحٰی کی حالتیں بھی اُمتِ محمدیہؐ پر آئیں گے اور وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى کی حالت بھی رونما ہو گی لیکن اس کے ساتھ ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قومی حیات کے متعلق ہم ایک وعدہ کرتے ہیں جو دنیا کی اور کسی قوم کے ساتھ ہم نے نہیںکیا کہ اس کی ضُـحٰی بھی مَاوَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى کے ماتحت ہو گی اور اس کی لَیْل بھی مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى کا ثبوت ہو گی۔جہاں تک ماننے والوں کا تعلق ہے بے شک ان کی مختلف حالتوں کے لحاظ سے کبھی ان پر ضُـحٰی کی گھڑیاں آئیںگی اور کبھی لَیْل کی تاریکی ان پر چھا جائے گی۔مگر جہاں تک شریعت محمدیہ کا اور لوگوں کے خدا تعالیٰ سے تعلق کا تسلسل ہے اس کے لحاظ سے کوئی دور ایسا نہیںہو گا جو مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى کے ماتحت نہ ہو۔قوم پر بے شک تنزل آجائے گا، لوگ بے شک گر جائیں گے، کامیابی اور اقبال کی درخشندہ ساعات بے شک لَیْل کی شکل میں بدل جائیں گے۔مگر جتنا حصہ محمدیتؐکا زندہ رہنا ضروری ہے وہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی معیت کے ماتحت قائم رہے گا۔اس میں درحقیقت اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جہاں دوسری اقوام خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر ترقی کر جاتی ہیں وہاں تیری قوم سے ایسا نہ ہوگا۔بلکہ تیری قوم پر جب بھی ضُـحٰی کا دور آئے گا مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ کے ماتحت آئے گا۔خدا سے الگ ہو کر دوسری قوموں کی طرح مسلمان کبھی بڑی ترقی نہیں کر سکتے۔چنانچہ دیکھ لو وہ تمام دوسری اقوام جن میں اللہ تعالیٰ کے انبیاء مبعوث ہوئے تھے جب ان پر روحانی تنزل کا زمانہ آیا تو باوجود اس کے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کو چھوڑ ا ہوا تھا وہ دنیوی لحاظ سے ترقی کر گئیں مگر فرماتا ہے تیری قوم سے ایسا نہیں ہو گا بلکہ اس پر جب بھی ضُـحٰی کا وقت آئے گا مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى کے ماتحت آئے گا۔اور جب کبھی اللہ تعالیٰ ان کو دنیوی ترقی نصیب کرے گا اس کے ساتھ ہی ان کا دین بھی درست ہو گا۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ان پر ضُـحٰی کا وقت ایسی حالت میںآجائے جب خدا تعالیٰ نے ان کو چھوڑا ہو ا ہو یا ان کی دینی اور اخلاقی حالت نا گفتہ بہ ہو۔عیسائیوں کو دیکھ لو ان پر دنیوی ترقی کا دور بے شک آیا مگر کس وقت؟ جب عملی لحاظ سے عیسائیت بالکل مر چکی تھی۔تین سو سال کے بعد جب عیسائی روحانی لحاظ سے سخت کمزور ہو چکے تھے اور ان میںحضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم کے خلاف کئی قسم کی خرابیاں پیدا