تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 120

پاک جذبہ آپؑکے دل میں اٹھتا آپؑاسے لکھ لیتے۔اس نوٹ بک میں آپ نے ایک جگہ خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے لکھا تھا۔’’او میرے مولا، میرے پیارے مالک، میرے محبوب، میرے معشوق خدا! دنیا کہتی ہے تو کافر ہے مگر کیا تجھ سے پیارا مجھے کوئی اور مل سکتا ہے؟ اگر ہو تو اس کی خاطر تجھے چھوڑ دوں۔لیکن میں تو دیکھتا ہوں کہ جب لوگ دنیا سے غافل ہو جاتے ہیںجب میرے دوستوں اور دشمنوں کو علم تک نہیںہوتا کہ میں کس حال میںہوںاس وقت تو مجھے جگاتا ہے اور محبت سے پیار سے فرماتا ہے کہ غم نہ کھا میںتیرے ساتھ ہوں تو پھر اے میرے مولا یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس احسان کے ہوتے پھر میںتجھے چھوڑدوں۔ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔‘‘ (البدر جلد ۱۱ نمبر ۱۵مورخہ ۱۱ ؍جنوری ۱۹۱۲ء صفحہ ۶) یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى میںبیان فرمایا ہے کہ دن ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ میںتیرے ساتھ ہوں دشمن تیری طرف اپنا ہاتھ نہیں بڑھا سکتا۔اور رات ثبوت ہوتی ہے اس بات کا کہ میںتجھ سے ناراض نہیں۔تو دن کے وقت دشمن کے منہ سے کئی قسم کی ناراضگی کی باتیں سنتا ہے اور تیرا دل سخت غمزدہ ہوتا مگر جب رات آتی ہے تو ہم تجھ سے کہتے ہیںتو دشمن کی ان گالیوں سے مت گھبرا ہم تجھ سے خوش ہیں۔پس دن کی حفاظت اور رات کا مکالمہ الٰہی دونوں ا س بات کا ثبوت ہیں کہ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى۔وَ الضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى کے چھٹے معنے چھٹے معنے یہ ہیں کہ ایک روحانی قبض و بسط کا وقت بھی ہر انسان پر آیا کرتا ہے جس کا اس آیت میںذکر کیا گیا ہے۔جہاں میں نے خالص دینی اور جسمانی کاموں کے متعلق قبض و بسط کی کیفیات کا ذکر کیا تھا وہاں ایک وقت انسان کی حالت پر ایسا بھی آتا ہے جب اس کی روحانی حالت پر قبض کی حالت طاری ہو جاتی ہے اس میں بھی چھوٹے اوربڑے سب یکساں ہیں اور سارے انسانوں پر ہی یہ قبض و بسط کا دور آتا ہے اس دور کا آنا بھی انسانی ترقیات کے لئے ضروری ہوا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے وَ الضُّحٰى وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى جیسے بعض روحانی دور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس رنگ میں آئے کہ وحی کانزول کچھ دنوں کے لئے بند ہو گیا جو روحانی طور پر ایک وقفہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دیا۔اسی طرح فرماتا ہے وَ الضُّحٰى وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰى۔ہم ان وقتوںکو بھی پیش کرتے ہیں جو تیرے لئے ضُـحٰی کا رنگ رکھتے ہیں اور ہم ان وقتوں کو بھی پیش کرتے ہیںجو تیرے لئے لَیْل کا رنگ رکھتے ہیں۔یعنی تیری روحانی حالت پر ہمیشہ ضُـحٰی کی کیفیت نہیںرہے گی بلکہ کبھی کبھی رات کی تاریکی کی سی حالت بھی آئے گی۔مثلاً کبھی نزول وحی میں