تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 119

ہیںتب بھی آپ خدا تعالیٰ کی خوشنودی ہی مد نظر رکھیں گے اور دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ آپ سے رات دن جدا نہیں ہوتا اور نہ آپ کے کسی فعل سے ناراض ہوتا ہے۔وَ الضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى کے پانچویں معنے پانچویں معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ دن کام کا وقت ہوتا ہے اور رات انسان کے آرام کا وقت ہوتا ہے فرماتا ہے وَ الضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى۔ہم تیرے دنوں کو پیش کرتے ہیں جب تو تبلیغ میں مصروف ہوتا ہے اور تیری راتوں کو پیش کرتے ہیں جب تو مکالمہ الٰہی میں مشغول ہوتا ہے۔تیرا دن خدا کے اس فعل کا ثبوت ہے کہ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ۔تیرے رب نے تجھے چھوڑا نہیں۔دوسرے الفاظ میں یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدۃ :۶۸) چنانچہ دیکھ لو دن کے وقت آپؐکی تبلیغ اور نشست و برخاست کن لوگوں میں تھی، کفار مکہ میںجو ہر وقت آپؐکو مارنے کی فکر میں رہتے تھے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تیرا دن اس بات کی شہادت دے گا کہ ہم تیرے ساتھ ہیں ورنہ دشمن جو ہر وقت تیرے پاس رہتاہے اسے کون سی چیز تجھے ہلا ک کرنے سے روک سکتی ہے اس کی سب سے بڑی خواہش تو یہی ہے کہ تجھے ہلا ک کر دے مگر باوجود اس خواہش اور ارادہ کے اور باوجود اس بات کے کہ دن کو تم انہیں لوگوں کے ساتھ رہتے ہو وہ تمہیںقتل نہیں کر سکتے۔پس تیر ا دن اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ خدا تیرے ساتھ ہے اور تیری رات ثبوت ہوتی ہے اس بات کا کہ وَمَا قَلٰى۔خدا تجھ سے ناراض نہیں۔دن کو لوگ تجھ پر اپنے غیظ و غضب اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔ایک آتا ہے تجھے فریبی کہتا ہے، دوسرا آتا ہے تو تجھے دھوکے باز کہہ دیتا ہے، تیسرا آتا ہے تو تجھے عزت کا خواہش مند کہہ کر چلا جاتا ہے۔غرض ہزاروں قسم کی گالیاں اور ہزاروںقسم کے الزامات ہیں جو تجھے دشمنوں سے سننے پڑتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دن اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ ہم تیرے ساتھ ہیں۔دن کو لوگ تجھے اپنی دشمنی کی وجہ سے ہلاک کر سکتے ہیںمگر چونکہ ہم تمہارے ساتھ ہوتے ہیں وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔وہ گالیاںدیتے ہیں،وہ تجھے برا بھلا کہتے ہیں، وہ تیرے ہلاک کرنے کے لئے کئی قسم کے منصوبے کرتے ہیں مگر اپنی تمام کوششوں میں ناکامی اور نامرادی کا منہ دیکھتے ہیںاور اس طرح دن کی ایک ایک گھڑی تیری صداقت اور راستبازی کا دنیا میںاعلان کررہی ہوتی ہے۔اس کے بعد جب سارے دن کی گالیاں سن کر رات آتی ہے اور تم سمجھتے ہو کہ میں کیا کروں مجھ سے تو ساری دنیا ناراض ہے اس وقت ہم تجھے تسلی دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو تجھ سے ناراض نہیں۔دنیا اگر ناراض ہے تو بے شک ہو۔میں نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک نوٹ بک دیکھی۔آپؑکا معمول تھا کہ جب کوئی